زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 282
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) کی طرف آئے۔282 جلد دوم پس اس پیشگوئی کا ایک بطن یہ بھی تھا کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کی فتح اور اسلام کی کامیابی اور اسلام کے غلبہ اور اسلام کے استعلاء کے لئے ایسے سامان پیدا کرے گا جن کی مثال پہلے مسلمانوں میں نہیں ملے گی۔اور اُس وقت سورج یعنی شمس مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئے گا۔ہمارے مولوی جلال الدین صاحب کا نام شمس ان کے والدین نے نہیں رکھا۔ماں باپ نے صرف جلال الدین نام رکھا تھا مگر انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ شاعر بھی نہیں تھے یونہی اپنے نام کے ساتھ ٹس لگا لیا تاکہ اس ذریعہ سے رسول کریم ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب شمس مغرب سے مشرق کی طرف آئے گا تو اُس وقت ایمان نفع بخش نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ اُس وقت اسلام اور ایمان کے غلبہ کے آثار شروع ہو جائیں گے۔اور یہی معنے صحیح اور درست ہیں۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی پیشگوئی پوری ہو تو اُسی وقت اُس کے تمام پہلو اپنی تکمیل کو پہنچ جانے چاہئیں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔تو رات اور بائیل سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب آپ ظاہر ہوں گے تو اُس وقت کفر بالکل تباہ ہو جائے گا۔حالانکہ جب آپ ظاہر ہوئے تو آپ کے ظہور کے ساتھ ہی کفر تباہ نہیں ہوا۔صلى الله در حقیقت اس پیشگوئی کا مطلب یہ تھا کہ رسول کریم ہے کے ظہور اور آپ کی بعثت کے ساتھ کفر کی تباہی کی بنیاد رکھی جائے گی۔اسی طرح اس پیشگوئی کے بھی یہ معنے نہیں کہ جب شمس صاحب آجائیں گے تو اس کے بعد لوگوں کے لئے ان کا ایمان نفع بخش ثابت نہیں ہو گا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کی خاص بنیا د رکھی جائے گی اور اُس وقت اسلام کو اتنا غلبہ حاصل ہو گا کہ لوگوں کا ایمان لانا اتنا نفع بخش نہیں ہوگا جتنا پہلے ہو سکتا تھا۔پہلے تو اسلام کی آواز ایسی ہی ہوگی جیسے ایک وحید و طرید انسان کی آواز ہوتی ہے۔مگر پھر دنیا کے چاروں طرف مبلغ پھیل جائیں گے۔قرآن کریم کے تراجم شائع