زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 271
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 271 جلد دوم جنگل میں کوئی آوارہ بکری مل جائے تو اسے لے لیا جائے یا نہ ؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لَكَ أَوْ لَا خِیكَ ذنب 1 وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی بھیڑیے کے لئے ہے۔اگر تو اسے نہیں لے گا تو بھیڑیا آئے گا اور اسے چیر پھاڑ دے گا۔پس مت خیال کردو کہ یہ بنجر کھیت یونہی پڑا رہے گا۔دنیا کی نگاہیں اس کی طرف اٹھ چکی ہیں اور اب ہمارا اور اس کا مقابلہ شروع ہے۔اگر ہمارے نوجوان جلد جلد اس ملک میں تبلیغ کے لئے نہیں جائیں گے اور قلیل سے قلیل عرصہ میں سارے علاقہ کو فتح کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو ہمارے لئے ترقی کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔خدا نے یہ علاقہ ہمارے لئے ہی رکھا ہے۔مگر ہو سکتا ہے کہ ڈاکو آئیں اور اس علاقہ کو ہم سے چھین کر لے جائیں۔اگر ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں ہو اور ڈاکو اس بچہ کو چھیننے کے لئے آجائیں تو اُس وقت نہ صرف ماں ان ڈاکوؤں کا مقابلہ کرے گی بلکہ بچہ بھی اپنی ماں کی مدد کرے گا اور وہ نہیں چاہے گا کہ ڈاکو اس پر قبضہ کر لیں۔اسی طرح اگر ہم کچھ بھی کوشش کریں تو چونکہ حق ہمارے ساتھ ہے اس لئے نہ صرف حق کے لحاظ سے ہمیں غلبہ حاصل ہو گا بلکہ افریقن فطرت بھی ہماری تائید کرے گی۔اور یہ حریف پر ہمیں فضیلت حاصل ہوگی کہ وہ تو صرف طاقت کے زور سے چھیننا چاہے گا مگر ہمیں سچائی کی طاقت حاصل ہوگی اور افریقن فطرت بھی ہماری تائید کرے گی۔اس لئے وہ قومیں بہر حال ہماری طرف آئیں گی ان کی طرف نہیں جائیں گی۔دوسرا اگر کوئی انہیں لے جائے گا تو زبردستی لے جائے گا رضا مندی سے نہیں۔پس اس وقت اگر ہم کچھ بھی طاقت اور زور بڑھائیں گے تو ہماری فتح زیادہ اغلب اور زیادہ یقینی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی جدو جہد کو اتنا بڑھا ئیں کہ افریقن فطرت اور ہماری طاقت مل کر حریف کا مقابلہ کرنے لگ جائے اور وہ اپنے ارادوں میں ناکام ہو جائے۔پس ہمارے لئے یہ بہت بڑی ہوشیاری اور بیداری کا وقت ہے۔انتہائی سرعت اور تیزی کے ساتھ کام کرنے کا وقت ہے۔دنوں اور مہینوں کے اندر اندر ہمیں تمام افریقہ پر چھا جانا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ جنگ سے فارغ ہونے کے بعد عیسائی پادریوں کا سیلاب