زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 270
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 270 جلد دوم میں تھے ان کا آپس میں جھگڑا شروع ہو گیا۔میں نے اس جھگڑے کو دور کر نے کا مناسب طریق یہ سمجھا کہ ان میں سے ایک کو افریقہ بھیجوا دیا۔اس کا وہاں جانا تھا کہ خدا تعالیٰ نے یہ راز مجھ پر کھول دیا کہ یہ وہ ملک ہے جس میں ہمارے لئے غیر معمولی طور پر ترقی کے راستے کھلے ہیں اور جن کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ اس کے بعد دوسرا مبلغ بھیجا گیا اور پھر تیسرا اور پھر چوتھا۔اب تک وہاں کئی مبلغ بھجوائے جاچکے ہیں اور تین چار اور جانے کے لئے تیار ہیں جن کو جلد ہی وہاں تبلیغ کے دائرہ کو وسیع کرنے کے لئے انشاء اللہ بھجوا دیا جائے گا۔یا درکھو اب یہ ایک ہی کھیت ہے جو ہمارے لئے خالی پڑا ہے۔اس کے سوا دنیا میں اور کوئی کھیت خالی نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ یہ کھیت اس وقت تک خالی پڑا ہے تم مت سمجھو کہ ہمارا بھائی جس نے دنیا کے تمام کھیتوں پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ کہے گا کہ میرے پاس تو بہت سے کھیت ہیں اس ایک کھیت پر انہیں قبضہ کر لینے دو۔بلکہ ہمارا بھائی ہمارے راستہ میں ہر قسم کی روکیں پیدا کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ ہمارا بھائی ہمارا حریف ہے۔مسیح اول کی جماعت یہ نہیں کہے گی کہ یہ کھیت تم بے شک لے لو مسیح اول کی جماعت بہت سے کھیتوں پر قبضہ کر چکی ہے۔بلکہ وہ ایک ایک قدم پر ہماری مخالفت کرے گی اور اب بھی وہ ہما را شدید مقابلہ کر رہی ہے۔چنانچہ ابھی باتوں باتوں میں مولوی نذیر احمد صاحب نے بتایا کہ جہاں ان علاقوں میں ہماری تبلیغ پھیل رہی ہے وہاں قریب ہی عیسائیوں نے بھی بڑے زور سے اپنا تبلیغی کام شروع کر رکھا ہے اور وہ اب تک پندرہ بیس ہزار لوگوں کو عیسائی بنا چکے ہیں۔گویا ہم جہاں بھی جاتے ہیں وہ ہمارا مقابلہ شروع کر دیتے ہیں۔پس سمجھو کہ یہ بنجر کھیت یونہی پڑا رہے گا۔ان پر قبضہ کرنے کے لئے ہمارا حریف تیار کھڑا ہے۔اگر پہلے تم نے ہل چلا دیئے تو یہ کھیت تمہارا ہو جائے گا اور اگر تم نے ہل نہ چلائے تو تمہارا حریف ان پر قابض ہو جائے گا۔ان ملکوں کی مثال اونٹ کی سی نہیں بلکہ اس بکری کی سی ہے جس کے متعلق رسول کریم ﷺ سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! اگر۔