زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 261

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 261 جلد دوم تم انسانوں کا شکار کیا کرو۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ لوگ کیسو کے پھول 2 یا سرکنڈوں میں سے گودا نکال کر اس کو چوس لیا کرتے تھے اور اس طرح میٹھے کی خواہش کو پورا کر لیتے تھے۔پھر اس سے ترقی کی اور اسی سرکنڈے سے گنا پیدا کر لیا۔پھر اس سے ترقی کی اور پونڈا پیدا کر لیا۔اسی طرح یہ کہنے والے کہ جیو ہتیا کرنا پاپ ہے شکار کے جذبہ کو پورا تو کرتے تھے مگر مکھیاں اور جوئیں مار کر۔مرغابیاں یا تیتر مارنے والے اس جذبہ کو ان سے احسن رنگ میں پورا کر لیتے تھے۔رسول کریم یا اللہ نے آ کر اس جذبہ کو بہت بلند کر دیا اور بجائے لکھیاں یا تیتر اور بٹیر مارنے کے انسانوں کا شکار کرنا سکھایا۔مگر لوہے کے تیروں کے ساتھ نہیں بلکہ روحانیت کے تیروں کے ساتھ۔لکھیاں اور جوئیں مارنے والے ان کو خود بھی نہیں کھاتے۔تیتروں اور بٹیروں کا شکار کرنے والے اس شکار کو خود تو کھاتے ہیں مگر خدا نہیں کھاتا۔لیکن رسول کریم اللہ نے جو شکار کرنا سکھایا ہے وہ ایسا شکار ہے کہ اسے خدا تعالیٰ بھی کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلكِن يَنَالُهُ التَّقوى مِنْكُم 3 کہ دم اور کم خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ اس کو وہ تقویٰ پہنچتا ہے جس کے ساتھ تم قربانی کرتے ہو۔تو جس طرح سرکنڈے سے گنا اور گنے سے پونڈا بناکی اسی طرح کچھ آدمی تو جوئیں اور لکھیاں مار کر اس جذبہ کو پورا کر لیتے تھے اور کچھ تیتروں ، بٹیروں اور مرغابیوں کا شکار کرنے والے تھے۔مگر اسلام نے شکار کے جذبہ کو ادفی حالت سے بلند کر کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیا۔اور ہمارے مبلغین کو خدا تعالیٰ نے توفیق دے دی کہ وہ آدمیوں کا شکار کریں۔مال خرچ کرنے کو ہی لے لیا جائے تو کوئی اپنا مال عیش اور تفریح کے لئے خرچ کرتا ہے مثلاً سینما، تھیٹر وغیرہ دیکھنے پر کوئی اپنا مال اپنے بیوی بچوں کے کھانے پینے اور تعلیم دلانے پر خرچ کرتا ہے۔اسلام نے حکم دیا کہ تم اپنا مال دین کے لئے خرچ کیا کرو۔غرض مال خرچ کرنے کی روح جو پہلے سے انسان کے اندر موجود تھی اسلام نے اس کو مٹایا نہیں بلکہ اس رو کو ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف بدل دیا۔اگر کوئی شخص آج دین کے لئے اپنا روپیہ