زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 260
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 260 جلد دوم انسانوں کا شکار کر کے لائے ہیں۔مرغابیوں کا شکار یا بٹیروں کا شکار یا تیتروں کا شکار تمہارے ماں باپ کو پسند ہوتا ہے اور انسانوں کا شکار خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔اللہ تعالیٰ کو مرغابیاں پسند نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو وہ دل پسند ہیں جو ہدایت کے تیر سے شکار کئے گئے ہوں۔پس یہ لوگ جو تبلیغ اسلام کے بعد باہر سے واپس آئے ہیں یہ بھی شکاری ہیں۔جس طرح مرغابیوں کے شکاری شکار سے واپس آتے ہیں تو محلہ والے اور دوست ان سے پوچھتے ہیں کیا مارا؟ اسی طرح جب کوئی مبلغ واپس آتا ہے تو ہم بھی پوچھتے ہیں کہ کیا مارا؟ اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کتنے آدمیوں کو تمہارے ذریعہ ہدایت نصیب ہوئی۔چیز وہی ہے جو فطرت انسانی میں داخل ہے۔اسلام نے صرف یہ کیا ہے کہ اس فطرتی تقاضا کو بلند مقام پر پہنچا دیا ہے۔اسلام فطرت کو کچلتا نہیں بلکہ اسلام کہتا ہے کہ اس فطرتی تقاضا کو تم پورا کرو مگر اس رنگ میں کرو جو اعلیٰ ہے۔جیسے وہ ماسٹر جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے لکھیاں مارا کرتا تھا۔حالانکہ شریف آدمی ! اگر تم نے جیو ہتیا کرنی ہے تو جاؤ شیر مارا کرو۔جب شکار ہی کرنا ہے تو پھر اچھی چیز کا شکار کیوں نہ کیا جائے۔اسی طرح ایک مبلغ مرغابیاں یا تیتر یا بیر مارنے والے شخص کو یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ میاں جاؤ اور مرغابیوں اور نیتروں کا شکار کرنے کی بجائے فلاں ملک میں جا کر انسانوں کا شکار کر کے دل خوش کرو اور اچھے شکاری بنو۔جس طرح تم مرغابیوں کا شکار کر کے خوش ہوتے ہو اس سے ہزاروں گنا زیادہ تمہیں اس سے خوشی ہوگی جب تمہاری تبلیغ سے ایک بھولا بھٹکا انسان لا إِله إِلَّا اللہ پڑھے گا اور خدا کے دین میں داخل ہوگا اور نئی زندگی پائے گا۔پس ہمارے مبلغ بھی شکاری ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ شکار کی روح جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے اسلام نے اس کو اعلیٰ رنگ میں پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ بجائے چھوٹی چھوٹی چیزوں کا شکار کرنے کے تم انسانوں کا شکار کیا کرو۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جیو ہتیا نہیں کرنی چاہئے شکار کا جذبہ ان کے اندر بھی پایا جاتا ہے اور وہ لکھیاں مار کر یا جوئیں مار کر اس جذبہ کو پورا کر لیتے ہیں۔اور جو مرغابیوں یا تیتروں یا بٹیروں کا شکار کرتے ہیں وہ اس جذبہ کو ان کی سے اچھے طریق پر پورا کر لیتے ہیں مگر اسلام نے اس روح کو اس سے بھی زیادہ بلند کر دیا کہ