زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 259

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 259 جلد دوم پڑھایا کرتا تھا۔وہ گوشت کے سخت خلاف تھا اور کہا کرتا تھا کہ گوشت کھانا بڑا پاپ ہے۔اس کی اس قسم کی باتوں کی وجہ سے مسلمان لڑکے بھی گوشت کو برا سمجھنے لگ گئے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ سکول میں میرا کھانا گیا تو ایک مسلمان لڑکا جو بعد میں احمدی ہو گیا تھا وہ میرا کھانا دیکھ کر دانتوں میں انگلی دبا کر کہنے لگا آپ ماس کھاتے ہیں ماس؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ماس کیا ہوتا ہے؟ یہ ماس تو نہیں یہ تو کلیجی ہے۔گویا اس آریہ ماسٹر کی باتوں کا اتنا اثر تھا کہ مسلمان لڑکے بھی گوشت کو برا سمجھتے تھے۔میری آنکھوں کے سامنے اب تک وہ نظارہ ہے کہ اس آریہ ماسٹر نے سر منڈایا ہوا ہوتا تھا صرف درمیان میں کلفی کی طرح چند بال تھے جسے پنجاب میں بودی کہتے ہیں اور سر میں ہمیشہ تیل لگائے رکھتا تھا۔اس نے لڑکوں کو پڑھاتے جانا اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد جب اسے محسوس ہوتا تھا کہ لکھی آکر اس کے سر پر بیٹھنے لگی ہے تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر کے اوپر لے جا کر اس طرح مارنے جس طرح تالی بجاتے ہیں۔اس طرح اسے لکھیاں مارنے کا اتنا شوق تھا کہ دن میں پندرہ ہیں لکھیاں مار کر بہت خوش ہوتا۔مرغابی مارنے یا تیتر مارنے یا بٹیر مارنے کو وہ برا سمجھتا تھا لیکن مکھیاں مارنے کا اسے بھی شوق تھا۔اسی طرح گائے کی قربانی کے خلاف تو ہندو بہت شور مچاتے ہیں لیکن آدمی کی جان جو گائے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اور اس کا مارنا گائے کے مارنے سے بہت زیادہ خطر ناک ہے اسے ضائع کر دینا کوئی برا نہیں سمجھتے۔پس شکار کرنا بھی انسان کی فطرت میں داخل ہے۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں مسلمانوں کو فرماتا ہے وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ 1 کہ تم بجائے مرغابیوں، تیتروں اور بٹیروں کا شکار کرنے کے آدمیوں کا شکار کیا کرو اور آدمیوں کے قلوب فتح کیا کرو۔جس طرح تم مرغابیوں کا شکار کر کے خوش ہوتے ہو، جس طرح تم بٹیروں کا شکار کر کے خوش ہوتے ہو، جس طرح تم نیتروں کا شکار کر کے خوش ہوتے ہو اسی طرح تم انسانوں کے قلوب فتح کر کے انہیں خدا کے سامنے لایا کرو کہ اللہ میاں ! ہم آپ کے لئے