زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 258

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 258 جلد دوم کہہ دیتے ہیں کہ ہم کرو نہیں کھاتے۔اگر گھر میں کدو پکا ہوا ہو تو اس کے کھانے سے انکار کر دیتے ہیں اور روٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔کوئی گو بھی نہیں کھاتا، کوئی گوشت نہیں کھاتا، کوئی دال نہیں کھاتا، کوئی شور با پسند نہیں کرتا۔غرض بعض چیزوں کا رد کر دینا انسانی فطرت میں داخل ہے۔اور ایسا کوئی نہیں ملتا جو کوئی نہ کوئی چیز رد نہ کرتا ہو۔جس طرح یہ چیز کھانے پینے اور پہننے کے متعلق پائی جاتی ہے اسی طرح اخلاق کے متعلق بھی یہ چیز پائی جاتی ہے۔جس کی طرح کھانے پینے اور پہنے کی بعض چیزوں کو ہم رد کر دیتے ہیں اسی طرح اخلاق میں بھی وہی جذبہ پایا جاتا ہے جسے ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں کہ بعض باتوں کا ہم رد کر دیتے ہیں اور بعض کو رد نہیں کرتے۔غرض فطرت وہی ہے دیکھنا صرف یہ ہے کہ آیا ہم نے اس کا صحیح استعمال کیا ہے یا نہیں۔مثلاً فطرت انسانی میں شکار کا جذبہ پایا جاتا ہے۔کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کے لوگوں کے اندر یہ جذبہ نہ پایا جاتا ہو۔جن لوگوں کو شکار کے بڑے بڑے مواقع نہ ملیں وہ چھوٹے چھوٹے شکار کر کے ہی اس جذبہ کو پورا کر لیتے ہیں۔جیسے عورتوں کو جوئیں مارنے کا شوق ہوتا ہے۔ایک دوسری کو کہتی ہے کہ لاؤ میں تمہاری جوئیں مار دوں۔مرغابیاں کی نہیں مار سکتیں تو بیٹھے بیٹھے جوئیں یا کھٹمل مار کر ہی اس جذبہ کو پورا کر لیتی ہیں۔چھوٹے بچوں میں بھی یہ شوق پایا جاتا ہے کہ لاؤ میں تمہاری جوئیں نکال دوں اور پھر جھوٹے ناخن مارتے ہیں اور اگر اتفاقا کوئی جوں مل جائے تو پھر دوسروں کو دکھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو میں نے جوں ماری۔جس طرح ایک شکاری اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ میں نے دو مرغابیاں ماریں اسی طرح ایک بچہ اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ میں نے دو جوئیں ماریں۔یہاں قادیان میں ابھی ہائی سکول نہیں بنا تھا لوئر مڈل یا پرائمری سکول تھا اس میں میں داخل تھا۔یہ سکول اُس گلی پر واقع تھا جو بازار سے ریتی چھلہ کی طرف جاتی ہے اور جس کے مغربی جانب پوسٹ آفس ہے۔اب تو وہ سکول بند ہو گیا ہے اس کے صحن میں بڑ کا ایک درخت ہوا کرتا تھا۔پتہ نہیں اب ہے یا نہیں۔ایک آریہ ماسٹر اس بڑ کے نیچے ہمیں