زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 248
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 248 جلد دوم جس کو دیکھ کر مجھے خواجہ کمال الدین صاحب یاد آ گئے۔وہ بھی عربی الفاظ کو ادا کرتے وقت گھبرا جاتے تھے اور جس طرح دلدل میں پھنسا ہوا انسان نکلنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح ان کی یہ کوشش ہوا کرتی تھی کہ میں دور ہی نکل جاؤں۔چنانچہ کئی الفاظ ایسے ہوا کرتے تھے جو ان کے ہونٹوں میں ہی رہتے تھے اور صرف گنگناہٹ کی آواز دوسروں کو سنائی دیتی تھی۔ہمارے ان واقفین کو پانچ پانچ سال تعلیم حاصل کرتے گزر گئے ہیں اس قدر لمبی تعلیم تو مولویوں کو بھی حاصل نہیں ہوتی پھر نہ معلوم ان کے اندر ابھی تک احساس کمتری کیوں پایا جاتا ہے اور کیوں وہ ڈرتے ہیں کہ ہم نے اگر ٹھہر ٹھہر کر الفاظ ادا کئے تو ہم سے غلطی نہ ہو جائے۔اسی طرح جانے والوں میں سے بھی بعض نے چھوٹی چھوٹی غلطیاں کی ہیں۔مثلاً اشهد ان لا ا الا اللہ میں نون کو لام سے پہلے انہوں نے نمایاں طور پر پڑھا ہے حالانکہ کلمہ طیبہ ایسی چیز ہے جسے انسان روزانہ پڑھتا ہے اس قدر بار بار دہرائے جانے والے فقرہ میں غلطی کا ہونا اسی وجہ سے ہے کہ انسان سمجھتا ہے مجھے زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں۔جتنا مجھے آتا ہے اتنا ہی گزارہ کے لئے کافی ہے۔گزارے کا خیال انسان کو بہت خراب کرتا اور اسے ترقیات سے محروم کر دیتا ہے۔اگر ایسی غلطیاں اس شخص سے ہوں جسے عربی زبان کی تعلیم کا موقع نہ ملا ہو تو اور بات ہے لیکن جسے عربی زبان پڑھنے کا موقع ملا ہو وہ ایسی غلطیاں کیوں کرے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ روحانیت کا لفظوں سے کیا تعلق ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک روحانیت کا ظاہری الفاظ سے کوئی تعلق نہیں مگر ایک ان پڑھ اور پڑھے ہوئے شخص میں تو کوئی فرق ہونا چاہئے۔وہ شخص جسے ظاہری اور رواجی درس و تدریس میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا وہ اگر روحانیت کی کوئی بات کہتا ہے اور اس کی زبان میں تلفظ کی غلطیاں پائی جاتی ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ روحانیت کا ظاہری الفاظ سے کوئی تعلق نہیں۔مگر جو شخص درس و تدریس میں اپنی عمر گزار چکا ہو وہ یہ جواب نہیں دے سکتا۔اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ظاہر کو بھی درست کرے اور روحانیت کو بھی بڑھانے کی کوشش کرے۔