زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 247
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 247 جلد دوم سر انگور کے دانہ کے برابر ہو تب بھی تمہارا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔1 کسی شخص کی لیڈری کے لئے دو ہی باتیں ضروری ہوتی ہیں۔یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا حسب و نسب رکھنے والا ہو اور یا پھر وہ نہایت مدبر اور سمجھدار انسان ہو۔رسول کریم ﷺ ان دونوں باتوں کی نفی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر وہ نسلاً بعد نسل حبشی ہو اور پھر کم عقلی میں بھی وہ انتہائی درجہ رکھتا ہو تب بھی تمہارا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔در حقیقت ہر مبلغ کا پہلا فرض یہی ہے کہ وہ اپنے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کرے اور بالا افسر کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ دکھائے۔اگر کوئی شخص بالا افسر کی اطاعت نہیں کر سکتا تو نہ صرف وہ تبلیغ کے قابل نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کے حکم کے مطابق تو ایسا شخص مسلمان بھی نہیں۔2 مسلمان اور پھر مبلغ کے لئے کامل اطاعت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔دوسری ہدایت جو اس موقع پر میں دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ گفتگو اور تقریرہ وغیرہ میں اس امر کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ تلفظ صحیح طور پر ادا ہو۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اچھے بھلے عربی دان مبلغ بھی بعض دفعہ تلفظ کو ادا کرنے کے لحاظ سے نہایت فاش غلطیوں کا ارتکاب کر جاتے ہیں۔مثلاً ابھی واقفین کی طرف سے ایڈریس پیش کیا گیا ہے جس کو پڑھنے والے ایک بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی ہیں۔انہیں پانچ سال عربی کی تعلیم حاصل کرتے گزر گئے ہیں مگر اتنے لمبے عرصہ کی تعلیم کے باوجود السَّلَامُ عَلَيْكُمُ صاف طور پر کہنے کی بجائے سَلامُ عَلَيْكُمُ کہہ کر وہ اس طرح دور ہی سے گزر گئے ہیں کہ گویا انہیں ڈر تھا کہ اگر آرام سے اور ٹھہر ٹھہر کر میں نے لفظ ادا کیے تو مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔حالانکہ پانچ سال کی تعلیم کے بعد ان کے اندر اتنی قابلیت پیدا ہونی ضروری تھی کہ وہ ٹھہر کر اور سکون کے ساتھ الفاظ کو ادا کر سکیں۔جسے عربی اچھی طرح نہیں آتی اس کے اندر احساس ہو سکتا ہے کہ مجھے جلدی جلدی الفاظ سے گزر جانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ مجھ سے غلطی ہو جائے۔مگر جسے ایک لمبا عرصہ عربی کی تعلیم حاصل کرتے گزر گیا ہے اس کے کیا اندر یہ احساس کیوں ہو کہ مجھ سے کہیں غلطی نہ ہو جائے۔ان کے ایڈریس پڑھنے کا طریق ایسا تھا