زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 242
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 242 جلد دوم جائے بلکہ ان کی مساعی کو قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔دوسری چیز تعاون ہے۔جانے والے مبلغین کا فرض ہے کہ وہ آپس میں بھی اور وہاں جو مبلغ کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں۔اس وقت جتنے مبلغ وہاں گئے ہیں انہوں نے ایسی عمدگی کے ساتھ آپس میں تعاون کیا ہے کہ بے اختیار دل سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں۔بعض جگہ آپ ہی آپ انہوں نے اپنے میں سے ایک کو افسر بنا لیا اور خود ان کے ساتھ رہ کر کام کرنا شروع کر دیا۔غرض انہوں نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ آپس میں تعاون کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کا وقار قائم ہو گیا ہے۔وہاں پادریوں کا بہت زور ہے۔ان تینوں ممالک کی تعلیم کا انتظام پادریوں کے ہاتھ میں ہے۔بے شک وہاں گورنمنٹ سکول ہیں مگر گورنمنٹ جس قد ر امداد دیتی ہے سب پادریوں کے ہاتھ میں دے دیتی ہے اور پادریوں کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسے جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ایسے ممالک میں جہاں پادریوں کا اس قدر اقتدار ہے ہمارے مبلغین نے ان کا مقابلہ کیا حالانکہ وہ زبان انگریزی بھی اچھی طرح نہیں جانتے۔مولوی نذیر احمد صاحب تو انگریزی جانتے ہیں مگر حکیم فضل الرحمن صاحب کی تعلیم غالباً انٹرنس تک ہے۔اسی طرح باقی مبلغ انگریزی کی بہت کم تعلیم رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے پادریوں کا بڑی کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر کے ان کو شکست دی۔گورنمنٹ سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اور آخر گورنمنٹ نے ہماری جماعت کے قائم کردہ سکولوں کو تسلیم کیا اور ان کی مدد کی۔صرف ایک مشکل ہے جس کا حل ابھی باقی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ سروس اس ملک میں اسی کو ملتی ہے جو لندن میٹرک کا امتحان پاس ہو۔پادریوں کے زیر انتظام چونکہ وہاں کے ہائی سکول ہیں اور وہ دیر سے قائم ہیں اس لئے وہ ان سکولوں میں تعلیم پانے والوں کو یہ امتحان دلا دیتے ہیں اور انہیں ملازمتیں مل جاتی ہیں مگر ہمارے سکول صرف مڈل تک ہیں اس لئے ہمارے سکول کے پاس شدہ احمدی نوجوان ان ملازمتوں کو حاصل نہیں کر سکتے۔اس نقص کے ازالہ کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ یہاں سے بعض