زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 241

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 241 جلد دوم اور ان کو گرانے کی بجائے انہیں حقیقی قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھا۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ نو جوان بھی اسی روح کو قائم رکھیں گے۔یہ ایک خطر ناک مرض ہے جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے کہ جب بھی ان میں سے کوئی کسی عہدے پر مقرر کر کے بھیجا جاتا ہے تو وہ پہلے کی تنقیص کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب میں آیا تو یہ خرابی تھی وہ خرابی تھی ، یوں گڑ بڑ ہو رہی تھی۔میں نے آکر ان نقائص کو دور کیا اور خرابیوں کی اصلاح کی۔پھر اس کے بعد جب کسی اور کو بھیجا جاتا ہے تو وہ اپنے سے پہلے شخص کے نقائص نکالنے شروع کر دیتا ہے۔اور کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ میری اس تحریر کا احترام کون کرے گا اور میری ان باتوں کو وقعت کی نگاہ سے کون دیکھے گا۔اگر میں دوسروں کے نقائص بیان کروں گا تو کل میرے بعد جو شخص آئے گا وہ میرے نقائص بیان کرنا شروع کر دے گا پھر میری عزت کیا رہ جائے گی۔مگر اپنی حماقت اور نادانی سے ہر بعد میں آنے والا پہلے کی خرابیاں بیان کرتا چلا جاتا ہے۔یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جو یہاں پایا جاتا ہے اور جس کی اصلاح کی بے حد ضرورت ہے۔یورپ کے لوگوں کو دیکھ لو انہوں نے اپنے پرانے فلاسفروں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں مگر اس کے باوجود وہ ان کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ فلاسفر یہ رطب و یابس جمع نہ کرتے تو ہم ترقی کی طرف اپنا قدم نہ بڑھا سکتے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ فلسفیوں کی مذمت کرتے ہیں اور مسلمان بھی اپنی نادانی سے ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔حالانکہ جتنی لغو اور پوچ باتیں یورپین فلسفیوں نے کی ہیں ان کا عشر عشیر بھی کسی مسلمان فلسفی کی باتوں میں نہیں پایا جاتا۔مگر مسلمان ہیں کہ وہ اندھا دھند اپنے پرانے فلاسفروں کی تحقیر کے درپے رہتے ہیں۔حالانکہ یہ محض جہالت اور بیوقوفی کی بات ہے۔اگر مینار پر بیٹھا ہوا آدمی نیچے کی سیڑھی کی مذمت کرنے لگ جائے تو اسے کون عقل مند قرار دے گا۔بے شک وہ اس وقت مینار پر ہے لیکن وہ مینار پر نہیں چڑھ سکتا تھا جب تک نیچے کی سیڑھی موجود نہ ہوتی۔پس ضروری ہے کہ سابق مبلغین کی خدمات کی قدر کی جائے اور ان کو گرانے کی کوشش نہ کی