زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 240
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 240 جلد دوم مجھے ایک تازہ خبر ملی جس سے مجھے بہت ہی خوشی ہوئی۔اور وہ یہ کہ انہوں نے ایک علاقہ میں ایک مسجد بنانے کی تجویز کی جس پر پندرہ سو روپیہ کے قریب خرچ ہوتا تھا۔وہاں کے مبلغ نے لکھا کہ میں نے لندن میں مولوی جلال الدین صاحب شمس کو تحریک کی کہ وہ مسجد کے لئے وہاں کی جماعت سے چندہ جمع کر کے بھیجیں۔انہوں نے انگلستان کی جماعت کے سامنے یہ تحریک پیش کی اور 80 یا 90 پونڈ انہوں نے جمع کر کے بھجوا دیئے۔مجھے اس خبر سے بہت ہی خوشی ہوئی کہ ایک وہ وقت تھا کہ ہم لندن میں مسجد بنوانے کے لئے چندہ کی تحریک کرتے تھے اور اب یہ وقت ہے کہ یورپ کے لوگ خود دوسرے ممالک میں مسجد میں قائم کرنے کے لئے چندے دے رہے ہیں۔غرض یہ ایک اہم علاقہ ہے جس میں تبلیغ کے بہترین نتائج نکل چکے ہیں اور اس سے بھی بہتر نتائج مستقبل قریب میں نکلنے کی امید ہے۔اور گو اس ملک کے مبلغین کی خدمات ابھی نمایاں طور پر ہمارے سامنے نہیں آئیں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسرے کئی ممالک سے اس جگہ تبلیغ زیادہ کامیاب رہی ہے اور اس جگہ کے مبلغین نے دوسرے کئی ممالک کے مبلغین سے بہت بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔تبلیغ اسلام کے لحاظ سے در حقیقت اب تک ہمیں تین نہایت اہم ممالک حاصل ہوئے ہیں۔ایک یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں کی تعداد میں جماعت پائی جاتی ہے اور وہ سب نہایت مخلص ہیں، مرکز سے خط و کتابت بھی رکھتے ہیں اور چندے بھی باقاعدگی سے دیتے ہیں۔دوسرا علاقہ مغربی افریقہ کا ہے اور تیسرا انڈونیشیا کا۔ہندوستان سے باہر یہ تین علاقے احمدیت کی تبلیغ کے لئے نہایت ہی بابرکت اور زرخیز ثابت ہوئے ہیں۔یہاں صرف بیج پڑنے کی دیر تھی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یکدم کھیتی پیدا ہونے لگ گئی۔ان تین میں سے ایک یعنی مغربی افریقہ میں اب یہ تین اور نوجوان تبلیغ احمدیت کے لئے جا رہے ہیں۔پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ دوسرے مبلغین کے خلاف اس ملک میں جتنے بھی مبلغ بھیجے گئے ہیں سب نے آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کیا اور پچھلوں کی خدمات کی تنقیص کرنے