زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 231

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 231 جلد دوم بڑے افسر کے چپڑاسی کے خلاف جذبہ تنفر پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر تم نے بھی اپنے اندر کوئی کمال داخل نہ کیا تو تم بھی اسی جذبہ کے قابل ہو گے۔ہم دنیوی لحاظ سے ایک معمولی زمیندار ہیں ہماری اس سے زیادہ حیثیت نہیں۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی دولت لوٹ لی ہے وہ جھوٹے اور فریبی ہیں۔جس چیز نے ہمیں روپیہ دیا ہے وہ احمدیت ہے۔احمدیت سے قبل ہماری زمینوں کی موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے کوئی قیمت نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے تو آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق یہاں کی آبادی بڑھی اور زمینوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں۔باہر جن زمینوں کی سو دو سو روپیہ قیمت ہے یہاں اُس کی قیمت ہزار دو ہزار ہے۔اور اگر یہ زمینیں مہنگی نہ ہوتیں تو تم تینوں اس قدر تعلیم بھی حاصل نہ کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت قادیان کی آبادی بڑھی ، زمینوں کی قیمتیں زیادہ ہوئیں تو تم اس قابل ہو گئے کہ اس قدر اعلیٰ تعلیم حاصل کرو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پنجاب میں ہمارا خاندان بہت معزز تھا اس کا اقرار غیر احمد یوں اور غیر مسلموں کو بھی ہے۔پرنس آف ویلز (Prince of Wales ) جب ہندوستان آئے تو میں بھی انہیں ملنے گیا تھا۔جب ملاقات کا وقت آیا تو میں نے اپنی سوئی نیچے رکھنی چاہی۔اس پر ایک سکھ نے جسے راجہ کا خطاب ملا ہوا تھا مجھے کہا کہ آپ بڑے آدمی ہیں اور پنجاب کے معزز خاندان سے ہیں آپ سوئی نہ رکھیں کیا ہوا اگر وہ شہزادہ ویلز ہے۔تو پنجاب میں کوئی بھی پرانا اور معزز خاندان ہمارے خاندان کی طرح نہیں مگر روپیہ ہمارے پاس نہیں۔پہلے ہمیں سکھوں نے لوٹا ، پھر انگریزوں نے لوٹا، ان دونوٹوں کی وجہ سے ہماری دنیوی حیثیت کم ہوگئی اور ایک معمولی زمیندار کی حیثیت پر آگئے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تشریف نہ لاتے تو ہماری ایک زمیندار سے زیادہ عزت نہ ہوتی۔پھر زمیندار بھی ایسا جس کی زمینیں نہری نہیں ہیں۔پس ان زمینوں کی قیمتیں صرف احمدیت کی وجہ سے بڑھیں۔اس کے بعد تم اس قابل ہوئے کہ تم اعلی تعلیم حاصل کر سکو۔اس لئے تم کسی احمدی