زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 222
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 222 جلد دوم غرض ہمارے مبلغ جو خدمت دین کے لئے باہر جاتے ہیں ان کا جماعت پر بہت بڑا حق ہے۔نادان ہے جماعت کا وہ حصہ جو ان کے حقوق کو نہیں سمجھتا۔یورپ کے لوگ ایسے لوگوں کو بیش بہا تنخواہیں دیتے اور ان کیلئے ہر قسم کے آرام و رہائش کے سامان مہیا کرتے ہیں۔جب ان کے ڈپلومیٹ یعنی سیاسی حکام اپنے ملکوں میں واپسی آتے ہیں تو ملک ان کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔فرانس کے ایمبیسیڈر (AMBASSADOR ) کی تنخواہ وزیر اعظم کی تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے مگر جب وہ اپنے ملک میں آتا ہے تو اہل ملک اس کی قربانیوں کی اس قدر تعریف کرتے ہیں اور اس کے اس قدر ممنون ہوتے ہیں کہ گویا وہ فاقے کرتا رہا ہے اور بڑی مشکلات برداشت کرنے کے بعد واپس آیا ہے۔اور دور جانے کی کیا ضرورت ہے ہندوستان کے وائسرائے کو دیکھو کہ اس کے کھانے اور آرام و آسائش کے اخراجات خود گورنمنٹ برداشت کرتی ہے اور میں ہزار روپیہ ماہوار جیب خرچ کے طور پر اسے ملتے ہیں۔وہ پانچ سال کا عرصہ ہندوستان میں گزارتا ہے اور اس عرصہ میں بارہ لاکھ روپیہ لے کر چلا جاتا ہے صرف لباس پر اس کو اپنا خرچ کرنا پڑتا ہے یا اگر کسی جگہ کوئی چندہ وغیرہ دینا ہو تو دے دیتا ہے ورنہ باقی تمام اخراجات گورنمنٹ برداشت کرتی ہے۔لیکن باوجود اس کے جب وہ اپنے ملک کو واپس جاتا ہے تو اس کی قربانیوں کی تعریف میں ملک گونج اٹھتا ہے اور ہر دل جذبه تشکر و امتنان سے معمور ہوتا ہے اور یہ جذبہ ان میں اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ گویا ان کے جذبات کا پیالہ چھلکا کہ چھلکا۔یہی گر ہے قومی ترقی کا۔جب کسی قوم میں سے کوئی فردا ایک عزم لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کو یقین ہوتا ہے کہ میری قوم میری قدر کرے گی۔بے شک دینی خدمت گزاروں کو اس کی قربانیوں کی پرواہ نہیں ہوتی لیکن اگر اس کی قوم اس کی قربانیوں کی پرواہ نہیں کرتی تو یہ اس قوم کی غلطی ہے۔بے شک ایک کی مؤمن کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیئے اور پھر ایک ایسی قوم کا نمائندہ جو اپنے آپ کو نیک کہتی ہے وہ تو ان خیالات سے بالکل الگ ہوتا ہے۔اس کو صرف اپنی