زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 206
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 206 جلد دوم تقلید اپنے لئے فخر سمجھیں۔مگر یاد رکھو منہ کی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔ہم نے دیکھا ہے کہ جماعت کے لوگوں میں سے بھی بعض نے اور دوسروں میں سے بھی بہتوں نے بڑے بڑے زبانی دعوے کئے۔میری عمر اس وقت سینتالیس سال کی ہوگی۔میں نے اپنی عمر میں بہت لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ دعوے کرتے کہ بہت قربانیاں کریں گے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کے راستہ میں اپنی جانیں دے دیں گے لیکن جب ان کے دعوی کو عملی رنگ میں دیکھنے کا وقت آیا تو وہ تقویٰ میں بھی کچے ثابت ہوئے اور قربانی کے موقع پر بھی کچے ثابت ہوئے۔پس ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ا زندگیوں کو عملی طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں اور اسلام میں غرق ہو جائیں۔ان کی قربانیاں کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہوں کیونکہ ایمان وہ شے ہے جس میں کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔اتنی محبت جتنی مجھے اپنی جان سے ہو سکتی ہے۔اس پر رسول کریم ہو نے فرمایا عمر ! تم ابھی ایمان میں کامل نہیں ہوئے اور تمہارا ایمان اُس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک تم مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہیں کرتے۔حضرت عمر کے دل میں ایمان تھا وہ اُسی وقت بول پڑے یا رسول اللہ ! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔یہی وہ ایمان ہے جو حقیقی ایمان کہلا سکتا ہے۔شرطوں والا ایمان کوئی ایمان نہیں اور نہ وہ خدا کے نزدیک قبول ہوتا ہے۔پس میں بچوں سے کہتا ہوں کہ ان کی یہاں آنے کی غرض یہ ہے کہ ان کے اندر اسلام کی محبت جاگزیں ہو جائے۔وہ اسلام کے لئے ہر قربانی کرنے کو عین راحت اور ہر تکلیف کو آرام سمجھیں۔کیونکہ ہم نے ہر ایک قربانی کر کے اسلام کو پھیلاتا ہے۔پس کوئی قربانی ایسی نہ ہو جو تمہاری نظروں میں بیچ نہ ہو اور کوئی کام نہ ہو جو تمہیں بڑا نظر آئے۔