زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 205

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 205 جلد دوم تم اپنے گھروں میں بھی سیکھ سکتے تھے۔اس پر انہوں نے کہا یہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ دین کی تعلیم حاصل کریں۔میں نے کہا یہ تمہارے ماں باپ بھی تمہیں سکھا سکتے تھے۔غرض میں نے کئی ایک سوال ان سے کئے بالآ خر انہوں نے کہا آپ ہی بتائیے کہ ہمارے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔میں نے انہیں کہا کہ آپ اس کے متعلق اپنے دوسرے ساتھیوں اور سپرنٹنڈنٹوں سے پوچھ کر بتا ئیں۔کچھ دنوں کے بعد جب وہ دوبارہ مجھ سے ملے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے سپر نٹنڈنٹ صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں آنے کا مقصد مساوات پیدا کرنا ہے۔چونکہ امیر اور غریب لڑکے سب مل کر ایک رنگ میں یہاں رہتے ہیں اس لئے جو مساوات یہاں پیدا ہو سکتی ہے وہ گھر میں رہنے سے نہیں ہوسکتی۔میں نے کہا گو یہ بھی درست ہے لیکن مساوات تبھی قائم ہو سکتی ہے جب تمہاری ہر بات مساوی ہو لیکن ابھی تمہارے کھانے میں اختلاف ہے، کپڑوں میں اختلاف ہے۔بعض بچے ہر روز دودھ پیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جنہیں بہت کم دودھ میسر آتا ہے۔غرض اختلافات ابھی موجود ہیں اور امتیاز کی دیوار ابھی تک نہیں مٹ سکی۔میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو جواب انہیں سکھایا گیا وہ معقول ہے کیونکہ مساوات جو وہ یہاں رہ کر حاصل کر سکتے ہیں گھروں میں رہ کر انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔مگر اس کے علاوہ بھی اور چیزیں ہیں جو بورڈ نگ تحریک جدید کے قیام کی اغراض میں داخل ہیں۔میں چاہتا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اور ٹیوٹروں کو توجہ دلاؤں کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو بچوں کو گھر پر میسر نہیں آسکتی اور جس کے حصول کے لئے انہیں یہاں لایا گیا ہے۔اور وہ کون سی تعلیم ہے جس کا حاصل کرنا وہاں آسان نہیں۔لیکن میں اس موقع پر تو بیان نہیں کر سکتا کیونکہ وقت تھوڑا ہے۔اس کے متعلق کبھی پھر یہاں آ کر بیان کروں گا۔اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کے نوجوانوں کو بورڈنگ تحریک جدید میں اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے بچے خادم بنیں اور سلسلہ کی تعلیم ان کے اندر گھر کر جائے۔وہ اسلامی تعلیم کا زندہ نمونہ ہوں تا کہ جہاں جہاں وہ جائیں لوگ ان سے متاثر ہوں اور ان کے اسوہ کی