زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 204

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 204 جلد دوم وقت تک ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں ایک چلو کے برابر ہے۔اور ابھی بہت سے ملک ایسے موجود ہیں جن میں ہماری تبلیغ نہیں ہو رہی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مبلغ ان ممالک کی زبانیں نہیں جانتے اور ہمارے پاس اتنے آدمی بھی نہیں کہ ان ملکوں میں چلے جائیں اور وہاں جا کر زبانیں سیکھیں اور تبلیغ کریں۔پس میں جماعت کے نو جوانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو جوش اور ولولہ مولوی عبد اللہ صاحب نے سنسکرت کی تعلیم کے حصول کے لئے دکھایا ہے اسے وہ بھی اپنے اندر پیدا کریں۔پھر میں یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے نہایت کمزور صحت کی حالت میں جو تعلیم حاصل کی ہے وہ دوسروں کے لئے بھی مفید ہو اور صدقہ جاریہ کا کام دے۔کیونکہ کسی کام کا ثواب اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی اس سے مستفیض کیا جائے۔خالی کسی علم کا سیکھنا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔وہ شخص بڑا ہی خوش قسمت ہے جو دوسروں کو اس قابل بنائے کہ وہ اوروں کے لئے مفید ثابت ہو سکیں۔پس مولوی صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنا علم دوسروں کو سکھانے کے لئے بھی ویسی ہی محنت اور جانفشانی سے کام لیں جو انہوں نے اس علم کے سیکھنے میں دکھائی ہے۔یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہوگی اگر وہ اپنی زندگی میں اس علم کو دوسروں تک پہنچا دیں۔اس کے بعد ان بچوں اور نو جوانوں کو مخاطب کرتا ہوں جن کی طرف سے آج یہ مہمان نوازی کی گئی ہے۔مہمان نوازی سے میری مراد پانی اور شربت وغیرہ نہیں۔ہمارے مہمان نواز وہ بچے ہیں جو اس وقت یہاں موجود ہیں اور مہمان نوازی سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کے مکان میں آ کر ٹھہرے ہیں۔یعنی میرے مخاطب بورڈ نگ تحریک جدید کے زیر انتظام تعلیم حاصل کرنے والے بچے ہیں جو اپنے والدین کو چھوڑ کر یہاں آئے ہوئے ہیں۔کچھ دن ہوئے بورڈ نگ تحریک جدید کے چند چھوٹے بچے میرے پاس آئے۔میں نے ان سے پوچھا یہ تو بتاؤ تمہارے بورڈنگ تحریک جدید میں داخل ہونے کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہاں آنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم دین سیکھیں۔میں نے کہا یہ تو