زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 203
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 203 جلد دوم سہولت کے ساتھ مہیا ہو سکتے ہیں۔ہماری جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے جو مثیل مسیح ہیں۔اور مسیح ناصری کے متعلق انجیلوں میں آیا ہے کہ ان کا بڑا معجزہ یہ تھا کہ ان کے پیروؤں اور حواریوں کو مختلف زبانیں بولنی آگئی تھیں۔انجیل میں اس معجزہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ایک جلسہ میں حضرت مسیح کے چند حواری بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اچانک وہ مختلف زبانوں کے فقرات بولنے لگ گئے اور ایک دوسرے سے مختلف زبانوں میں باتیں کرنے لگے۔1 لیکن مختلف زبانوں کا جان لینا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ اس سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے جب تک کہ انہیں تبلیغ کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ان لوگوں نے اس پیشگوئی کا مطلب بھی یہی سمجھا۔چنانچہ وہ عیسائیت کی اشاعت کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور مسیح کی تعلیم کو دور دراز تک پہنچانے کے لئے انہوں نے مختلف زبانیں سیکھیں۔پس یہی وہ معجزہ ہے جس کی پہلوں کو ضرورت تھی اور یہی وہ معجزہ ہے جس کی ہم کو ضرورت ہے۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان مختلف ملکوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر مختلف زبانیں سیکھیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ صرف ہندوستان ہی میں کئی سو مختلف زبانیں ہیں۔اور اگر تمام ملکوں کی زبانوں کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔جب تک یہ تمام زبانیں ہمارے نوجوان نہیں سیکھ لیتے اس وقت تک تمام ملکوں میں تبلیغ نہیں کی جاسکتی۔میرا مقصد تحریک جدید سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوان دنیا کی تمام زبانیں سیکھیں تا کہ ہر ملک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی جا سکے۔گو اس وقت بھی یہ مقصد ایک حد تک پورا ہو رہا ہے مثلاً چین میں ہمارے آدمی ہیں جو چینی زبان سیکھ رہے ہیں، جاپان میں ہمارے مبلغ جاپانی زبان سیکھ رہے ہیں ، جاوا میں ہمارے مبلغ وہاں کی زبان سیکھ رہے ہیں، اسی طرح سٹریٹ سیٹلمنٹ ، ہنگری، اٹلی ، سپین، امریکہ کے ایک حصہ ارجنٹائن اور افریقہ کے بعض حصوں میں ہمارے آدمی موجود ہیں جو ان ملکوں کی زبانیں سیکھ رہے ہیں۔لیکن ابھی ہمارا بہت سا کام باقی ہے اور بیسیوں ملک ابھی رہتے ہیں۔اس