زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 202
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 202 جلد دوم دنیا کی تمام زبانیں سیکھو اور خدمت اسلام میں بڑی سے بڑی قربانی کو بیچ سمجھو 17 جون 1937ء کو بورڈ نگ تحریک جدید میں جمعیۃ فتیان الاحمدیہ کی طرف سے مکرم مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب مولوی فاضل کے اعزاز میں (جو ساڑھے سات سال کے عرصہ کے بعد کلکتہ اور بنارس سے کا دیہ تیر تھے اور دید بھوشن کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر کے واپس آئے ) دعوت دی گئی۔جس میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔بھی مولوی عبد اللہ صاحب نے آپ کے سامنے اپنے واقعات بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ کس طرح اسلام کی خدمت کے ارادہ سے انہوں نے اپنے وطن کو چھوڑا، اپنے عزیز واقارب کو چھوڑا اور ساڑھے سات سال تک وطن سے باہر رہ کر سنسکرت اور دیدوں کی تعلیم حاصل کی۔یہ عرصہ گو اپنی ذات میں لمبا نہیں دنیا میں اس سے بہت زیادہ لیے عرصہ تک باہر رہنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن جس صحت کی حالت میں انہوں نے یہ کام کیا اور جن مشکلات میں انہوں نے یہ کام دیا اور جس مالی تنگی میں انہوں نے یہ کام کیا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنے ہم عمروں اور ہمجولیوں کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ مثال قائم کی ہے۔اگر ہمارے دوسرے نو جوان بھی اس بات کو مد نظر رکھیں کہ آرام طلبی اور باتیں بنانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ کام کرنے سے ہی حقیقی عزت حاصل ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں مختلف زبانوں کے ماہر نہایت