زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 191

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 191 جلد دوم فرض ہے۔اس بارہ میں افسروں کی ذمہ داری نہایت اہم ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ طلباء کو بار بار اس تحریک کی اغراض اور اس کے مقاصد سمجھا ئیں۔جس دن اس تحریک کو پوری طرح سمجھ کر ہمارے طلباء باہر نکلے اور اس روح کو لے کر نکلے جو تحریک جدید کے ذریعہ ان میں پیدا ہونی ضروری ہے یہ قومی طور پر ہمارا پہلا چیلنج ہو گا کہ اگر دنیا میں کوئی قوم زندہ ہے تو وہ ہماری زندہ قوم سے مقابلہ کر لے۔آج اگر لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے تو کیا ہوا۔جس دن نپولین سکول میں پڑھ رہا تھا کون سمجھ سکتا تھا کہ وہ کس چیز کیلئے تیار ہو رہا ہے۔جس دن ہٹلر اور مسولینی اپنی قوموں میں نہایت چھوٹے درجہ پر ٹریننگ حاصل کر رہے تھے کوئی سمجھ سکتا تھا کہ اس وقت جرمنی اور اٹلی کی قسمت کا سوال حل ہو رہا ہے؟ اسی طرح اگر تم اس تحریک کی اہمیت کو سمجھ لو تو گو دنیا اس بات کو نہ سمجھے مگر تمہارے اندر اسلام کی آئندہ فتوحات کا حل نظر آئے گا۔اور اگر تمہارے ٹیوٹر، تمہارے سپرنٹنڈنٹ، تمہارے انچارج اور تمہارے استاد تقومی شعار ہوں اور وہ حکمتوں کو سمجھنے والے ہوں تو وہ تمہارے ذریعہ لڑکے پیدا نہیں کریں گے بلکہ بدری صحابہ کی طرح زندہ موتیں پیدا کریں گے اور تم اسلام کیلئے ایک ستون اور سہارا بن جاؤ گے۔کتنا عظیم الشان کام ہے جو تمہارے سامنے ہے۔تم جو اتنی معمولی سی بات پر خوش ہو جاتے ہو کہ فلاں جگہ کبڈی کا میچ تھا جس میں ہم جیت گئے یا فٹ بال کے میچ میں اگر اچھی تک (Kick) لگاتے ہو تو اسی پر پھولے نہیں سماتے۔ذرا خیال تو کرو کہ تم جن کو یہ کہا جاتا ہے کہ سادہ زندگی بسر کرو ، جن کو کہا جاتا ہے کہ نہ اچھا کھانا کھاؤ نہ اچھا کپڑا پہنو، تمہیں اس بات کیلئے تیار کیا جارہا ہے کہ تم کفر اور مداہنت کی ان زبر دست حکومتوں کو جنہوں نے اسلام کو دبایا ہوا ہے پل کر رکھ دو، تم فلسفہ اور اباحت اور منافقت کی ان حکومتوں کو جنہوں نے خدائی الہام کو مغلوب کیا ہوا ہے ریزہ ریزہ کر دو۔کیا تم نہیں سمجھ سکتے یہ کتنا عظیم الشان کام ہے جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔بچپن میں قوت واہمہ چونکہ زیادہ تیز ہوتی ہے اس لئے تم اس کو یوں سمجھ لو کہ اگر کبھی اتفاقاً شام کے وقت تم دودھ پینے کیلئے نکلو، تمہیں دودھ کی دکان پر یہ نظارہ نظر آئے کہ ایک