زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 189

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 189 جلد دوم میں نے سمجھا کہ میں نہیں بول رہا بلکہ میری زبان پر خدا بول رہا ہے۔اور یہ صرف اس دفعہ ہی میرے ساتھ معاملہ نہیں ہوا بلکہ خلافت کی ابتدا سے خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہی معاملہ ہے۔میں نے قرآن شریف کی شاید پانچ ، سات یا دس آیات پر ان کے معانی معلوم کرنے کیلئے ایسا غور کیا ہوگا جسے لوگ غور" کہتے ہیں ورنہ ان آیات کو مستقلی کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم پر کبھی غور نہیں کیا۔اور اگر قرآن کریم کے مطالب معلوم کرنے کیلئے اس پر غور کرنا نیکی ہے تو میں اس نیکی سے قریباً محروم ہی ہوں کیونکہ قرآن کریم کی آیات کے معانی کے متعلق ہمیشہ مجھ پر القاء ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا مفہوم مجھ پر کھول دیتا ہے اور جس چیز کو میں خود نہیں سمجھ سکتا اللہ تعالیٰ آپ ہی آپ مجھے سمجھا دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ اب یوں کہو اور اب یوں کہو۔غرض قرآنی معارف کے متعلق مجھے کبھی غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔لیکن کئی نادان ہیں جو اس پر بھی اعتراض کر دیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ قرآن کے معارف سمجھاتا ہے۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے کہ پھر آپ لغت کیوں دیکھتے تھے؟؟ اور ممکن ہے کہ میرے متعلق بھی بعض لوگ یہ اعتراض کریں اس لئے یہ بتا دینا ضروری ہے که لغت قرآنی معارف معلوم کرنے کے لئے نہیں دیکھی جاتی بلکہ مختلف معانی معلوم کرنے کیلئے دیکھی جاتی ہے اور اصل چیز معارف ہیں نہ کہ معانی۔پس قرآنی معارف کے لئے یا اس کی آیات میں ترتیب معلوم کرنے کے لئے مجھے کبھی غور نہیں کرنا پڑا۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ - جن آیات پر مجھے غور کرنا پڑا ہے وہ بہت ہی محدود ہیں۔اسی طرح اس موقع پر بھی اللہ تعالٰی نے میرے ساتھ یہی سلوک کیا اور اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ جس صداقت کا اس اسکیم کے ذریعہ میں نے اظہار کیا ہے وہ میرا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کا فخر مجھ کو نہیں بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ تک پہنچایا۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہے جو پھر ہمیں اس کے دروازہ تک لے گئے۔اور اگر میں نے اس پر کچھ وقت خرچ کیا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پیغامبر ہو جو کسی دوسرے کا پیغام لوگوں تک پہنچا دے۔