زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 158

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 158 جلد دوم کے سامان مہیا کرنے والا ہے۔بیسیوں لوگ ایسے ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس ملک کو دیکھیں۔وہ خود روپیہ خرچ کر کے جاتے ہیں۔وہ انہی تکالیف میں سے گزرتے ہیں جن تکالیف میں سے ہمارے مبلغ گزر سکتے ہیں اور بعض کو تو اپنی روٹی کمانے کیلئے وہاں جاتے کر کام بھی کرنا پڑتا ہے اور اس کیلئے بعض کو بڑی بڑی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔میں جب انگلستان میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص وہاں بیرسٹری کی تیاری کر رہا تھا۔دو سال سے اسے گھر سے خرچ نہیں آیا تھا مگر وہ کام کر کے روپیہ کماتا اور اس کے ساتھ ہی تعلیم بھی حاصل کرتا۔اب وہ بیرسٹر ہے اور ہندوستان میں ہی کام کرتا ہے۔غالباً جہلم یا گجرات مجھے صحیح یاد نہیں مگر ان میں سے کسی ایک جگہ وہ کام کرتا ہے اور کبھی کبھی مجھے بھی اس کا خط آ جاتا ہے۔تو لوگ ان تکلیفوں سے زیادہ تکلیفیں اٹھا کر جو ہمارے مبلغین کو پہنچتی ہیں یا پہنچ سکتی ہیں محض اس لئے کہ یورپین زندگی خوش آئند ہے اور ان کی طبائع کو بھاتی ہے وہ اس ملک میں جاتے اور اس زندگی کو اس زندگی پر ایسی ترجیح دیتے ہیں کہ بعض دفعہ اپنے ماں باپ یا دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کی بیماری اور موت کی خبریں بھی انہیں ملتی ہیں تو وہ وہاں سے آنا پسند نہیں کرتے۔پس ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں جانا کسی قسم کی قربانی نہیں سوائے اس کے کہ جانے والے کے اپنے دل میں کمزوری ہو کیونکہ بعض لوگ ہوم سک (HOMESICK) میں مبتلا ہوتے ہیں یعنی گھر کی محبت جلدی ان پر غال آ جاتی ہے اور وہ اداس اور غمگین ہو جاتے ہیں۔اس مرض کے مریضوں کو چھوڑ کر کہ اس قسم کے لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے اور ان کے لئے سفر واقعی ایک قربانی ہوتی ہے کیونکہ جو چیز دوسروں کی نگاہ میں عیش اور لذت کا سامان ہو وہ اُن کیلئے دکھ اور مصیبت کا باعث ہوتا ہے۔وہ دن کی گھڑیوں میں اس دکھ اور درد سے کراہتے اور رات کی تنہائی کی گھڑیوں میں آنسو بہاتے اور روتے ہیں۔چنانچہ ہمارے بچے جو ولا بیت گئے ہوئے ہیں ان میں سے ایک کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال تک روزانہ رات کو روتا تھا اور جب اس سے پوچھا جائے کہ تم کیوں روتے ہو؟ تو وہ کہتا میں قادیان کی یاد