زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 157

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 157 جلد دوم مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دینے والے احمدی مبلغین کو نہایت ضروری اور اہم ہدایات 21 /اکتوبر 1936ء کو دو مبلغین سلسلہ جو امریکہ بھجوائے جا رہے تھے کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفتہ مسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔آج ہمارے دو عزیز خدمت دین کے ارادہ سے قادیان سے باہر جا رہے ہیں اور آج غالباً پہلا موقع ہے کہ تحریک جدید کے طلباء کے ایڈریس میں مجھے شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ہر ملک اور ہر قوم کے خطرات الگ الگ قسم کے ہوا کرتے ہیں۔جس ملک میں ہمارے یہ عزیز جا رہے ہیں وہاں جان کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہندوستان کی نسبت جان وہاں زیادہ محفوظ ہے۔پھر اس جگہ انسانی آرام اور آسائش میں کسی قسم کی کمی کا خوف نہیں بلکہ ہماری نسبت وہاں ہزاروں گنے زیادہ آرام اور زیادہ آسائش کے سامان لوگوں کو حاصل ہیں۔اس جگہ سوشل اور تمدنی تعلقات کے خراب ہونے کا بھی کوئی خوف نہیں کیونکہ وہاں اس ملک کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ، زیادہ با مذاق اور موجودہ زمانہ کی روش کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ روشن خیال لوگ موجود ہیں۔اسی طرح سفروں کی تکالیف کا بھی وہاں کوئی ڈر نہیں کیونکہ یہاں کی پکی سڑکیں وہاں کی کچی سڑکوں کے مقابلہ میں شاید ردی اور خراب ہی کہلائیں۔غرض دنیوی تمدن ، دنیوی آرام و آسائش اور جسمانی ضروریات کے لحاظ سے وہ ملک ہمارے ملک کے مقابلہ میں ہزاروں گنے زیادہ آرام اور زیادہ آسائش