زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 140
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 140 جلد دوم لئے وہ جارہا ہے وہ کتنا اہم ہے۔میں نے بتایا ہے کہ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی راہ میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔لیکن اگر علاوہ مبلغین کے کثرت سے ہماری جماعت کے احباب ان ممالک میں جائیں تو ان کے ذریعہ بھی ان مشکلات کا ازالہ ہو سکتا ہے۔کیونکہ مبلغ کے لئے یہ دقت ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے مجالس میں اگر عورتوں سے مصافحہ نہ کیا جائے تو لوگوں سے ملنے ملانے میں بڑی دقت ہوگی۔یا تعدد ازدواج کے متعلق جب تک معذرت نہ کی جائے تبلیغ نہیں ہو سکتی۔یا پردے کا ذکر جب تک ترک نہ کیا جائے لوگ اسلامی مسائل کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس وجہ سے وہ خیال کرتا ہے کہ میں ان مسائل کے متعلق خاموشی اختیار کرلوں اور اسلام کے دوسرے احکام کا لوگوں کو قائل کرتا چلا جاؤں تا لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ اسے اتنا عرصہ اس ملک میں تبلیغ کے لئے گئے ہو گیا مگر اس نے کام کچھ نہیں کیا۔اس وجہ سے وہ اپنا پہلو بدل لیتا ہے۔لیکن دوسرے لوگ جو اپنی تجارت وغیرہ کے سلسلہ میں ان ممالک میں جائیں وہ صحیح اسلام لوگوں کے سامنے پیش کریں گے کیونکہ انہیں اس سے کوئی واسطہ نہ ہو گا کہ وہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں یا نہیں بلکہ وہ احمدیت کی صحیح تعلیم انہیں بتائیں گے چاہے وہ مانیں یا نہ مانیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان ممالک میں کثرت سے ہماری جماعت کے لوگوں کا جانا مفید ہوگا۔لیکن قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ یہ ایک مستقل چیز ہیں اور نہ صرف انگلستان بلکہ امریکہ کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے اور اسلام کی صحیح تعلیم سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔چاہے وہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں۔پھر یہ ترجمہ ہمارے مبلغوں کو بھی ایسی طرف نہیں جانے دے گا جو سلسلہ کے لئے خطرات کا موجب ہو۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں نے ابھی تک پوری طرح احمدیت کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔اللہ تعالیٰ نے میری خلافت کے شروع زمانہ میں مجھ سے ایک کام لیا اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے عقیدہ کو تفصیلی طور پر خدا تعالیٰ نے