زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 139
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 139 جلد دوم ہے وہ یہ ہے کہ قادیان کے بہت سے لوگ ان کے شاگردوں میں سے ہیں اور قدرتی طور پر جہاں اس قسم کا تعلق ہو وہاں دعائیں بھی ہوا کرتی ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی طاقت ہے جو مولوی صاحب کو حاصل ہے۔جس انسان کے پیچھے کثیر دعا ئیں جاری ہوں اس کی مشکلات خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ ہی آپ حل ہو جایا کرتی ہیں۔یہ کام جسے خدا تعالیٰ جلد سے جلد تکمیل تک پہنچائے اس قسم کا ہے کہ اپنے اندر بہت بڑی ذمہ داری رکھتا ہے۔دنیا میں قرآن کریم کے ترجمے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کی غرض تعلیم ہوا کرتی ہے مگر اس میں ایک زائد غرض بھی ہے اور وہ یہ کہ اپنے مستقبل کو خطرات سے بچایا جائے۔ور نہ اگر مغربی ممالک میں اسلام پھیلتا چلا جائے اور اس کے مسائل مشتبہ ہوتے جائیں تو ڈر ہے کہ اسلام میں داخل ہونے والے عیسائی اسی طرح اسلام کو بگاڑ دیں جس طرح انہوں نے عیسائیت کو بگاڑا۔پس ضرورت ہے کہ مغربیت اور اسلام کے درمیان ایسی دیوار حائل کر دی جائے جیسے ذوالقرنین نے دیوار بنائی کہ جس کے اوپر سے چڑھ کر کوئی مخالف نہ آسکے۔ہاں اس کے دروازوں سے اجازت لے کر صحیح راستہ سے آنا چاہے تو آجائے۔یعنی مغرب کا کوئی شخص اسلامی احکام سے بغاوت نہ کر سکے اور نہ اس کے احکام کو بگاڑ سکے بلکہ اسلام کے متعلق جو کچھ کہے اور جس تعلیم کو وہ قرآن کریم کی طرف منسوب کرے اس کے کہنے اور منسوب کرنے کی شریعت اسے اجازت دیتی ہو۔اس اہم کام کے لئے مولوی صاحب جا رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے قادیان میں ان کے بہت سے شاگرد ہیں، ناظروں میں سے بھی ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب ان کے شاگرد ہیں اور جو دوسرے محکموں والے ہیں وہ بھی اکثر ان کے شاگرد ہیں۔بیرونی جماعتوں میں بھی بہت سے ان کے دوست اور شاگرد ہیں۔پس فکر کی کوئی بات نہیں صرف صحت کی کمزوری کا خیال ہے۔مگر دعا ئیں انسانی کاموں میں بہت مد ہوتی ہیں اور جب مولوی صاحب کے لئے اتنے کثیر آدمیوں کی طرف سے دعائیں ہوں گی تو یقیناً ان کے لئے بہت آسانی ہوگی۔پھر بیماریوں کا مقابلہ اس طاقت سے بھی ہوتا ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ جس کام کے