زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 138
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 138 جلد دوم۔ہیں۔صحت کے کمزور ہونے کی وجہ سے تکالیف بے شک ہوتی ہیں لیکن ان ممالک میں ایسے سامان موجود ہیں جن سے ایسی تکلیفیں دور کی جا سکتی ہیں۔مثلاً سردی ہے۔ایسے آدمی کو جس نے باہر نکل کر کام کرنا ہو بے شک اس کی وجہ سے تکلیف ہوگی لیکن مکان کے اندر بیٹھ کر جس نے کام کرنا ہو اسے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہاں الیکٹرک ہیٹر ز اور گیس وغیرہ سے مکانات کو خوب گرم رکھا جاتا ہے۔پھر بعض مکانات ایسے ہوتے ہیں جنہیں پانی سے گرم کیا جاتا ہے۔دیواروں میں لوہے کی نالیاں ہوتی ہیں جن میں سے ہر وقت ابلتا ہوا پانی گزرتا رہتا ہے اور اس طرح مکان کی دیوار میں گرم رہتی ہیں اور اندر بیٹھا ہوا آدمی بغیر اس کے کہ اس کے پاس انگیٹھی ہو یہ سمجھتا ہے کہ مارچ یا اپریل کا مہینہ ہے اور اسے کوئی سردی محسوس نہیں ہوتی۔بلکہ بعض جگہ ریلوں کو بھی اس طرح گرم کیا جاتا ہے اور وہ اس قدر گرم ہو جاتی ہیں کہ آدمی کے لئے بعض دفعہ بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ پاؤں جلتے ہیں تو یہ سارے سامان ہو سکتے ہیں اور انسان تکلیف سے بچ سکتا ہے۔بحری سفر میں بھی جو تکالیف ہوتی ہیں وہ گو بظاہر محسوس زیادہ ہوتی ہیں مگر خطرات والی نہیں ہوتیں۔جیسے متلی ہے، متلی جب کسی کو ہو تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ اب اس کی زندگی کا آخری لمحہ ہے لیکن جب تے ہو جائے تو طبیعت صاف ہو جاتی ہے۔دراصل سمندر کی حرکت کی وجہ سے انسانی جسم میں بھی ایک متوازی حرکت پیدا ہوتی ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کا معدہ نیچے ہی نیچے چلا جا رہا ہے۔لیکن عام لوگوں کی رائے یہ ہے کہ سمندری سفر کے بعد انسان کی صحت پہلے کی نسبت زیادہ اچھی ہو جاتی ہے۔بے شک بعض استثنائی صورتیں بھی ہوتی ہیں اور ممکن ہے کوئی شخص ایسا بھی ہو جس کی صحت سمندری سفر کے بعد اچھی نہ ہو لیکن بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے کہ سمندری سفر کے بعد صحت بہت حد تک درست ہو جاتی ہے۔اور ممکن ہے اس سفر سے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو مولوی صاحب کی صحت بھی درست ہو جائے کیونکہ سمندری ہواؤں میں ایسی تاثیرات ہوتی ہیں جو خشکی کی ہواؤں میں نہیں ہوتیں۔مگر میں سمجھتا ہوں ایک بہت بڑی چیز جو مولوی شیر علی صاحب کو حاصل