زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 137
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 137 جلد دوم میرے نزدیک یہ ایک نہایت ہی اہم کام ہے جس کی طرف جتنی جلدی توجہ ہو سکتی اتنا ہی مناسب ہوتا اور اب بھی جتنی جلدی یہ کام ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔مولوی شیر علی صاحب اس غرض کے لئے ولایت جارہے ہیں تا کہ وہاں جا کر وہ قرآن کریم کے ترجمہ کی انگریزی زبان کے لحاظ سے مزید نگرانی کر سکیں۔اس بات کی قرآن مجید کے نوٹوں کے لئے بھی ضرورت ہے مگر ترجمہ کے لئے زیادہ ضرورت ہے۔کیونکہ ترجمہ میں یہ مشکل پیش آتی ہے کہ اگر تحت اللفظ ترجمہ کیا جائے تو زبان بگڑ جاتی ہے۔اور اگر زیادہ واضح کیا جائے تو وہ ترجمہ کی حد سے نکل کر تفسیر بن جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ماہر اہل زبان اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لے لیا جائے۔ہو سکتا ہے کہ وہ ترجمہ دیکھ کر کسی جگہ کوئی ایک ہی لفظ ایسا بتا دیں جو ایک فقرہ کا قائم مقام ہو سکے اور اس طرح ترجمہ مختصر ہونے کے باوجود زیادہ مطالب پر حاوی ہو جائے۔یا کوئی زبان کی غلطی ہو تو اسے دور کر دیں۔یہ کام جس وقت ہو جائے گا اس کے بعد بقیہ کام ہمارے لئے سہل ہو جائے گا۔ایڈریس میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے مولوی صاحب کی صحت کمزور ہے اور وہ زیادہ سردی برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ایک دفعہ میں نے ایک رویا بھی دیکھا تھا جس کی ایک حد تک میں اب خلاف ورزی کر رہا ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں وہ اپنا کام جلد سے جلد ختم کر لیں گے اور ان کا ولایت میں مختصر سے مختصر قیام ہوگا۔مفتی صاحب جب امریکہ سے واپس آئے تھے تو اُس وقت میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کہتا ہوں میں اب مفتی صاحب اور مولوی شیر علی صاحب کو باہر نہیں جانے دوں گا۔رویا میں گو یہ میرا اپنا فقرہ تھا مگر رڈیا کے اس قسم کے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں یہ کام اس قسم کا ہے کہ اگر وہ قلیل سے قلیل عرصہ اس کام میں لگا کر واپس آجائیں تو ان کا وہاں کا قیام بھی قادیان کا قیام ہی سمجھا جائے گا۔زیادہ غرض یہ ہے کہ ترجمہ کی اصلاح ہو جائے اور زبان کے لحاظ سے اس میں کوئی نقص نہ رہے۔باقی طباعت کا کام دوسرے لوگ بھی کر سکتے