زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 131
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 131 جلد دوم دیکھا جلدی سے بوٹیوں کو نگلنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ گرم تھیں اس لئے نہ وہ انہیں تھوک سکا نہ نگل سکا بلکہ وہ اس کے گلے میں پھنس کر رہ گئیں۔مغرب کی تبلیغ کی حالت بھی اس وقت ایسی ہی ہے اور کچھ عرصہ تک ایسی ہی رہے گی۔اور میں سمجھتا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے بعض اصحاب بھی مغربی تبلیغ کے مخالف ہیں کیونکہ وہاں تبلیغ کرنے کے نتیجہ میں بعض ایسے شرور پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو ساری جماعت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔مثلاً موجودہ زمانے میں ہم وہاں پر وہ جاری نہیں کر سکتے۔اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بوجہ اس کے کہ مغرب میں تبلیغ کے لئے ایسے آدمی چنے جاتے ہیں جو انگریزی جانتے ہوں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ اپنے اندر روحانی طاقت کس قدر رکھتے ہیں اس لئے بعض مبلغ جب ولایت سے پھر کر آتے ہیں تو وہاں کے اثرات کے ماتحت ہوتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ پردے کی کیا ضرورت ہے اور بجائے اس کے کہ وہ وہاں اسلامی ماحول تیار کریں وہاں کی زہریلی فضا سے متاثر ہو جاتے ہیں۔بالکل ممکن ہے کہ یہ زہر کسی وقت بڑھ جائے اور اتنا ترقی کر جائے کہ وہ ساری کی ساری عمارت جو ہم تیار کر رہے ہیں اس کے لئے ڈائنامیٹ ثابت ہو۔اور وہی کوششیں جو اسلام کی اشاعت کا موجب ہو رہی ہیں اس کے ضعف اور تباہی کا موجب بن جائیں۔اس قسم کے اور بھی کئی نقائص ہیں جن کے متعلق یہ احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے وہ کسی وقت ساری جماعت کے لئے کمزوری اور ضعف کا موجب بن جائیں۔کئی مواقع ایسے ہوتے ہیں جب انسان سے نیک نیتی سے بھی کمزوری ہو جاتی ہے۔ایک موقع پر جس کی تفصیل بیان کرنا میں پسند نہیں کرتا بعض مستورات آئیں اور انہوں نے مجھ سے مصافحہ کرنا چاہا۔میں نے کہا کہ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسلام نے اس سے منع کیا ہے۔یہ سننے کے بعد ایک ہمارے مبلغ تھے انہیں خیال پیدا ہوا کہ بجائے بعد میں کسی اور ذریعہ سے بات پہنچنے کے بہتر ہے کہ میں خود ہی ذکر کر دوں۔چنانچہ وہ باہر نکل کر مجھ سے کہنے لگے اصل بات یہ ہے کہ میں تو عورتوں سے مصافحہ