زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 130

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 130 جلد دوم مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی اہمیت اور قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ وتفسیر کی ضرورت حضرت مولوی شیر علی صاحب کی ولایت کو روانگی اور مولوی اللہ دتا صاحب کی بلا د عربیہ سے واپسی پر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے اساتذہ وطلباء کی طرف سے 25 فروری 1936ء کو ان کے اعزاز میں دعوت چائے دی گئی جس میں حضرت خلیفہ اسمع الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔مولوی اللہ دتا صاحب چونکہ اب قادیان میں ہی رہیں گے اور شاید بعض اور پارٹیاں بھی ہوں جن میں ان کے متعلق کچھ بیان کرنے کا موقع مل جائے۔لیکن مولوی شیر علی صاحب ولایت جا رہے ہیں اور اب ان کے یہاں ٹھہرنے کا بہت کم وقت ہے اس لئے میں اپنی تقریر میں زیادہ تر بلا د غربیہ میں تبلیغ اسلام کو مد نظر رکھوں گا۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں مغربی تبلیغ فی الحال ان امور میں سے ہے جن کو انسان نہ چھوڑ سکتا ہے نہ اختیار کر سکتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی باورچی تھا اسے یہ عادت تھی کہ کھانا پکاتے وقت کوئی نہ کوئی چیز کھا جاتا۔اس کا آقا بہت بخیل تھا۔ایک دن اسے خیال پیدا ہوا کہ نو کر ہنڈیا میں سے بوٹیاں نکال کر کھا جاتا ہے اس پر اسے گرفت کرنی چاہئے۔یہ خیال آنے پر وہ ایک دن یک دم باورچی خانہ میں چلا گیا۔اُس وقت نو کر گرم گرم بوٹیاں نکال کر منہ میں ڈال رہا تھا۔جونہی اس نے اپنے آقا کو آتے