زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 129

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 129 جلد دوم اچھی رائے پیدا کی جاسکتی ہے۔پھر علمی، تمدنی، سیاسی ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق احمدیت کے نقطہ نگاہ سے بہت کچھ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ کام مبلغ کر سکتے ہیں مگر نہیں کرتے۔زنانہ تعلیمی کورس تیار کرنے کے متعلق کئی بار اخبار میں اعلان کیا گیا مگر اس کے متعلق کوئی کام نہ ہوا۔حالانکہ مبلغین کے پاس اس قسم کا کام کرنے کے لئے کافی وقت ہوتا ہے۔اس وقت میں پھر نصیحت کرتا ہوں اور باہر جانے والوں کو خصوصیت سے کہ ان کا بے کار بیٹھنا لوگوں کو نمایاں نظر آتا ہے۔انگلستان، شام اور دیگر ممالک کے لوگ چونکہ خود مختی ہوتے ہیں اس لئے جب وہ مبلغ کو بے کا ر دیکھتے ہیں تو برا مناتے اور شکایت کرتے ہیں۔وہ یہ تو کہتے ہیں کہ فلاں مبلغ بڑا دیندار اور بڑا قابل ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسے لکھا جائے زیادہ محنت اور مشقت سے کام کرے۔پس آپ لوگ اپنے اوقات کو اس طرح لگائیں کہ دیکھنے والے محسوس کریں کہ کام کر رہے ہیں اور کام کرنے کے متعلق اپنا نقطہ نگاہ بدلیں۔صرف تقریر کرنا کام نہیں بلکہ کام کا بہت وسیع میدان ہے۔اب میں نے جو تقریر کی ہے اس کی وجہ سے میرا گلا بیٹھا جا رہا ہے۔لیکن یہاں سے جا کر میں ہاتھوں کی سے اور آنکھوں سے کام کر سکتا ہوں جبکہ گلا کام نہیں کر سکے گا۔آپ لوگوں کو یہ میری دوسری نصیحت ہے۔اور میں سمجھتا ہوں یہ آپ کے بہت کام آ سکتی ہے۔پس اپنا نقطہ نگاہ بدلو۔اپنے آپ کو محنتی بناؤ۔اپنے کام میں تنوع پیدا کرو تا کہ نیک نتائج نکلیں۔سلسلہ کو ا وسعت حاصل ہو اور آپ لوگوں کی مستقل یادگاریں قائم رہیں۔“ الفضل 9 جنوری 1936ء)