زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 128

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 128 جلد دوم دیتا ہے اور دوسری کو صحیح۔عام لوگ اس بات کو اس لئے نہ سمجھ سکے کہ طبری ان باتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف مقامات پر لاتا ہے۔ان ٹکڑوں کو میں نے نکال کر ایک جگہ رکھ دیا۔دوسرے لوگ دونوں قسم کی روایتوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ ملیں اور جب سلسلہ ٹوٹا تو ایک روایت کو غلط قرار دے دیا اور دوسری کو صحیح۔جس روایت میں کسی بڑے صحابی کا نام آ گیا اسے صحیح کہنے لگ گئے اور دوسری کو غلط۔مگر اس طرح کچھ نتیجہ نہ نکلتا۔طبری نے جن روایات کو ترجیح دی ہے انہوں نے ان کو نہ سمجھا۔حالانکہ وہ وجوہ ترجیح بھی بتاتا ہے۔مثلاً ایک نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ایک روایت سے صحابہ پر اعتراض پڑتا ہے اور دوسرا یہ کہ اعتراض نہیں پڑتا۔جن روایات سے اعتراض نہیں پڑتا ان میں واقعات کی کڑی ملتی جاتی ہے مگر جن سے اعتراض پڑتا ہے ان میں واقعات کی کڑی نہیں ملتی اور یہ ان کے غلط ہونے کا کافی ثبوت ہے۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تاریخ اسلام پر کوئی لیکچر نہیں دیا مگر آپ کو قبول کرنے کی وجہ سے جو یہ بات ہمارے دماغوں پر حاوی ہو چکی ہے کہ رسول کے صحابہ سب کے سب گمراہ نہیں ہو سکتے اس سے اسلامی تاریخ کا نہایت پیچیدہ نکتہ ہم پر حل ہو گیا اور جن لوگوں تک میری وہ کتاب پہنچی ہے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس میں وہ عظیم الشان بات بیان کی گئی ہے جو اس سے پہلے انہیں معلوم نہ تھی۔پس ہمیں وہ سہولتیں حاصل ہیں جو دوسروں کو میسر نہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے ایسی روشنی بخشی ہے جو اوروں کے پاس نہیں۔اس لئے ہم سابقہ مشکلات کو حل کر سکتے اور اسلام کی صداقت کو نئے سے نئے رنگ میں پیش کر سکتے ہیں۔ہمارے مبلغین کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مسائل کو حل کریں۔مثلا غَرَانِيقُ الْعُلَى کے قصہ کی تحقیق ضروری ہے۔اس کے علاوہ اور ہزاروں مذہبی اور تاریخی مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے اسلام پر اثر پڑتا ہے۔یعنی جن کے غلط رنگ میں پیش ہونے کی وجہ سے اسلام پر برا اثر پڑ رہا ہے۔اور ان کو اگر صحیح صورت میں پیش کیا جائے تو اسلام کے متعلق