زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 127
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 127 جلد دوم جائے۔اگر نصف یا چوتھائی حصہ ہی سمجھ میں آجائے تو وہی کام کے لئے کافی ہے۔پھر تصنیف کرنا بھی مبلغین کے کاموں میں سے ایک اہم کام ہے اور یہ مستقل یادگار ہوتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ وقت دے اور توفیق دے تو ضرور اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ہزاروں مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق ضرورت ہے کہ ان پر احمدی نقطہ نگاہ سے لکھا جائے اور انہیں حل کیا جائے۔پہلے لوگ ان کے متعلق اس رنگ میں لکھ ہی نہ سکتے تھے کیونکہ ان کے لئے وہ عقدہ لا نخیل تھے۔مثلاً اسلام میں اختلافات “ پر میں نے جو لیکچر دیا اور جس میں مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں اور جھگڑوں کے اسباب اور وجوہات بیان کیں اس کے متعلق بڑے بڑے تاریخ دان تسلیم کرتے ہیں کہ یہ باتیں ان پر پہلے نہ کھلی تھیں۔حالانکہ وہ اسلامی تاریخ کی کتابیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے وجہ یہ کہ وہ نقطہ ہم پر ہی کھل سکتا تھا۔ہم سے پہلے اسلام سے بعد کی وجہ سے یہ بات لوگوں کے ذہنوں سے مٹ چکی تھی کہ رسول کی قوت قدسی عام حالات سے نمایاں ہونی چاہئے۔اسی طرح یہ خیال کہ بشریت کی غلطیوں سے صحابہ آزاد نہ تھے ان باتوں کے مٹ جانے کی وجہ سے ستی ایک طرف چلے گئے اور شیعہ دوسری طرف۔لیکن ہم نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قرآن کریم کو دیکھا، آپ کے عمل اور اثر کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ نبی دنیا میں پاک جماعت قائم کرنے کے لئے آتا ہے مگر اس کے ماننے والوں سے بشری غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔اس بات نے ہمیں اسلامی تاریخوں کے سمجھنے میں مدد دی اور ہم اصل حقیقت تک پہنچ گئے۔میں نے اپنے اس مضمون میں صرف طبری کو لیا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ ہم یہ مان ہی نہیں سکتے کہ تمام صحابہ بد دیانت اور خائن اور مفسد ہو سکتے ہیں۔ادھر ہم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اسلامی تاریخوں میں جو باتیں آئی ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ان میں اگر کچھ جھوٹ ہے تو سچ بھی ضرور ہے۔یہ نکتہ ہے جس کو پیش نظر رکھ کر میں نے طبری کا مطالعہ کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ طبری میں دو متوازی روایات چل رہی ہیں۔ایک کو وہ غلط قرار