زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 123
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 123 جلد دوم بولنے کی محنت ان سے زیادہ اثر کرتی ہے۔ان حالات میں یہ سمجھنا کہ مبلغ کا کام صرف تقریریں کرنا ہے اور وہ چھ سات گھنٹے اپنی دوسری ضرورتوں میں صرف کرنے کے بعد باقی سترہ اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام میں لگا سکتا ہے درست نہیں ہوسکتا۔اور جب تک مبلغ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف تقریر میں کرنا ہے اس وقت تک وہ فارغ ہی رہیں گے۔با وجود اس کوفت کے جو تقریر کرنے سے انہیں ہوتی ہے۔لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جبکہ کوئی دوسرا کام نہ ہو۔لیکن جب اور کام بھی ہو تو باوجود اضمحلال کی حالت کے وہ کام کر سکتے ہیں۔میں نے اس طرف بار بار توجہ دلائی ہے کہ مبلغین کا کام صرف تقریر کرنا نہیں بلکہ تربیت کرنا ہے اور دوسروں میں کام کرنے کی روح پیدا کرنا ہے۔پھر تالیف و تصنیف کا کام ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلطان القلم کا خطاب دیا ہے۔آپ کی جماعت میں شامل ہونے والوں کو بھی اس صفت کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر غرباء کی ترقی کا خیال رکھنا، بے کاروں کو کام پر لگانے کی کوشش کرنا، مصیبت زدوں کو مفید مشورے دینا ، دوسرے لوگوں کے مفید اور اچھے کاموں میں دلچسپی لینا بھی مبلغین کے لئے ضروری ہے۔مثلاً بیواؤں کی امداد کرنے والی انجمنیں خواہ غیر احمدیوں کی ہوں یا سکھوں کی یا ہندوؤں کی ان میں شامل ہو کر جو مبلغ کام کرتا ہے وہ تبلیغ کا ہی کام کرتا ہے اور اس قسم کے کام تبلیغ کا حصہ ہیں۔اگر فی الحال یہ نہ سہی تو اپنی جماعت کی ایسی ضروریات موجود ہیں جن میں مبلغ حصہ لے سکتا ہے۔مثلاً رشتہ ناطہ کی مشکلات کو حل کرنا، بے کاروں کے لئے کام تجویز کرنا، مصیبت زدوں سے ہمدردی کرنا، آپس کی ناچاقی اور رنجش کو دور کرنا یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کے کرنے سے اس قسم کی تکان نہیں ہوتی جو تقریر کرنے سے ہوتی ہے اور اس طرح انسان سارا وقت کام میں صرف کر سکتا ہے۔اگر ایک مبلغ اپنی رپورٹ نہیں بلکہ دوسرے مبلغین کی رپورٹیں پڑھے تو میرا خیال ہے کہ مبلغین کے کام کے متعلق وہی اندازہ اس کا ہو جو میرا ہے۔اپنی ذات کے متعلق اندازہ لگانے میں خواہ کسی میں کام کرنے کا کتنا ہی