زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 108

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 108 جلد دوم مبلغین کو نہایت اہم ہدایات 17 نومبر 1935ء مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نے احمدیہ انٹر کالجینیٹ ایسوسی ایشن لاہور کے ممبروں کو جامعہ احمدیہ کے صحن میں دعوت چائے دی۔از راہ شفقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی اس تقریب میں شرکت فرمائی اور تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔” جب میں کوئی ایسا اجتماع دیکھتا ہوں جس میں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے فارغ طلباء کا مشترک حصہ ہوتا ہے تو میرا دل اس خوشی کو محسوس کرتا ہے کہ ایسے زمانہ میں جبکہ میری زیادہ عمر نہ تھی اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں ان دونوں شعبوں کے مٹائے جانے میں روک بن سکوں اور ان کے قائم رہنے میں مدد دے سکوں۔گو وہ کام مادی لحاظ سے زیادہ اہمیت نہ رکھتا ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ روحانی نقطہ نگاہ سے بہت بڑے نتائج پیدا کرنے والا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے چند ماہ پہلے یہ سوال اٹھا کہ ہماری جماعت کو مخالفین کا چونکہ علمی لحاظ سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس لئے ہمیں علماء کی ضرورت ہے اور ان کے لئے کوئی انتظام ہونا چاہئے۔اس سوال کے پیدا ہونے پر عام طور پر یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کو بند کر دیا جائے اور تمام زور مدرسہ احمدیہ پر صرف کیا جائے۔اُس وقت اس کے متعلق اس قدر غلو ہو گیا اور یہ معاملہ اس وقت کا اس قدر اہم ترین مسئلہ بن گیا کہ اگر کوئی یہ کہتا کہ مدرسہ انگریزی کی بھی قائم رہنا چاہئے تو اس کے متعلق کہا جاتا کہ اس میں نفاق کی کوئی رگ ہے۔کیونکہ اس کی کے دل میں انگریزی مدرسہ قائم رکھنے کی خواہش ہے۔اُس زمانہ کی جو شیلی طبائع کے