زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 100

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 100 جلد دوم ہمیں اسلامی اصطلاحات سے ایک گہرا تعلق ہونا چاہئے۔ایسا گہرا تعلق کہ جیسا باپ کو اپنے بیٹے سے بھی نہیں ہوتا۔اور ہمیشہ اسلامی اصطلاحات کو رواج دینا چاہئے۔کیونکہ دوسری اصطلاحات کو استعمال کرنے سے بعض دفعہ غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ممکن ہے بعد میں آنے والے لوگ یہی سمجھیں کہ ہمارا بھی یہی عقیدہ تھا جو غیر اسلامی اصطلاح استعمال کرنے والوں کا اس اصطلاح کے متعلق تھا۔ممکن ہے وہ ہمارے متعلق یہی سمجھیں کہ ہم His Holiness کا لفظ اسلامی عقیدہ کے مطابق ہی استعمال کرتے تھے۔تاہم مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ نہ ہم غلطی کریں اور نہ آئندہ اپنی اولادوں کو غلطی میں مبتلا ہونے دیں۔ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہ میٹنگ مغرب کے بعد ہو رہی ہے۔جب کسی سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ خیال کر لیتا ہے کہ لا ہے کہ Oh I am sorry کہہ کر معاملہ کو ختم کر دیا جائے گا۔لیکن میرا یہ طریق ہے کہ جب تک کوئی شخص اس امر کے متعلق جس پر اسے گرفت کی گئی ہو مکمل جواب نہ دے دے اُس وقت تک میں اس سے کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔تا اسے I am sorry نہ کہنا پڑے۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارا طرہ امتیاز اور ہمارا قدم اخلاقی معیار کے لحاظ سے بہت اونچا ہو۔یہ واقعہ میرے سامنے کا نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کا ہے کہ آپ کو اطلاع ملی کہ ایک احمدی نے بغیر ٹکٹ کے سفر کیا اور قادیان آیا ہے۔یہ سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسی وقت اپنی جیب سے اسے کچھ رقم دی اور فر ما یاریل کی چوری بھی ویسی ہی چوری ہے جیسی کسی دوسری چیز کی چوری ہوتی ہے۔تم ریلوے والوں کو ان کا کرایہ ادا کرو اور جاتی دفعہ ٹکٹ لے کر جاؤ۔پس ہمارا اصل معیار دیانت داری اور صداقت ہے۔اگر ہم اس کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہم ترقی کی طرف جارہے ہیں۔دنیا میں اگر کوئی لا زوال دولت ہے تو دیانت اور امانت ہی ہے جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے بھیجی