زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 92
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 92 جلد اول حضرت مسیح موعود عام طور پر باتیں کر لیتے تھے مگر پھر بھی بعض دفعہ چپ بیٹھے رہتے تھے۔ایسے موقع کے لئے بعض لوگوں نے مثلاً میاں معراج الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب نے یہ عمدہ طریق نکالا تھا کہ کوئی سوال پیش کر دیتے تھے کہ حضور مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں۔اس پر تقریر شروع ہو جاتی۔تو بعض لوگوں کو باتیں کرنے کی خوب عادت ہوتی ہے اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں چپ کرانا پڑتا ہے۔مبلغوں کے لئے باتیں کرنے کا ڈھب سیکھنا نہایت ضروری ہے۔میر صاحب ہمارے نانا جان کو خدا کے فضل سے یہ بات خوب آتی ہے۔میں نے ان کے ساتھ سفر میں رہ کر دیکھا کہ خواہ کوئی کسی قسم کی بھی باتیں کر رہا ہو وہ اس سے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔بیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ بیہودہ بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اپنے کام بیسویں ہدایت سے کام رکھے۔مثلا ریل میں سوار ہو تو یہ نہیں کہ ترک موالات پر بحث شروع کر دے۔میں نے اس کے متعلق کتاب لکھی ہے مگر اس لئے لکھی ہے کہ میرے لئے جماعت کی سیاسی حالت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور سیاسی طور پر اپنی جماعت کی حفاظت کرنا بھی میرا فرض ہے۔اگر میں صرف مبلغ ہوتا تو کبھی اس کے متعلق کچھ نہ لکھتا کیونکہ مبلغ کو ایسی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسے ہر وقت اپنے کام کا ہی فکر رکھنا چاہئے۔اور اگر کہیں ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو اس کے دائرہ عمل میں داخل نہیں ہیں تو وہ واعظانہ رنگ اختیار کرے اور کہے کہ اتفاق و اتحاد ہی اچھا ہوتا ہے اور و وہی طریق عمل اختیار کرنا چاہئے جس میں کوئی فساد نہ ہو، کوئی فتنہ نہ پیدا ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔اس کے سوا کیا ہو یا کیا نہ ہو اس میں پڑنے کی اسے ضرورت نہیں ہے۔بلکہ یہی کہے کہ ہر ایک وہ بات جو فساد، فتنہ اور ظلم و ستم سے خالی ہو اور حق و انصاف پر مبنی ہوا سے ہم ماننے کے لئے تیار ہیں اور اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو بات حق و صداقت پرمبنی ہوا سے ہم ہر وقت ماننے کے لئے تیار ہیں۔اکیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کو اس بات کی بھی نگرانی کرنی چاہئے اکیسویں ہدایت کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں۔مبلغ کوا -