زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 91
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 91 جلد اول میں نے اس کا جواب سنا تو میرے دل کو بہت خوشی ہوئی۔جس سے اس طرح پیش آئے تھے وہ لوگ تبلیغ کر سکتے تھے اور وہ ان کی باتوں سے متاثر ہو سکتا تھا ؟ ہرگز نہیں۔تو ایثار کے موقع پر ایثار کر کے لوگوں میں اپنا اثر پیدا کرنا چاہئے تاکہ تبلیغ کے لئے راستہ نکل سکے۔اس قسم کی اور بیسیوں باتیں ہیں جن میں انسان ایثار سے کام لے سکتا ہے۔اٹھارھویں بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دلائل دو قسم کے اٹھارھویں ہدایت ہوتے ہیں۔ایک عقلی اور دوسرے ذوقی۔عقل تو چونکہ کم و بیش ہر ایک میں ہوتی ہے اس لئے عقلی دلائل کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے لیکن ذوقی دلیل ہوتی تو سچی اور پکی ہے مگر چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ مناسبت ذاتی کے بغیر اس کا سمجھنا ناممکن ہوتا ہے اس لئے اس کا مخالف کے سامنے پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔کیونکہ اگر اس میں بھی ذوق سلیم ہوتا اور اس کا دل اس قابل ہوتا کہ اس بات کو سمجھ سکے تو وہ احمدی کیوں نہ ہو گیا ہوتا اور کیوں الگ رہتا۔اس کا تم سے الگ رہنا بتاتا ہے کہ اس میں وہ ذوق سلیم نہیں ہے جو تمہارے اندر ہے۔اور ابھی اس کا دل اس قابل نہیں ہوا کہ ایسا ذوق اس کے اندر پیدا سکے۔اس لئے پہلے اس کے اندر یہ ذوق پیدا کرو اور پھر اس قسم کی دلیلیں اسے سناؤ۔ورنہ اس کا الٹا اثر پڑے گا۔کئی مبلغ ہیں جو مخالفین کے سامنے اپنی ذوقی باتیں سنانے لگ جاتے ہیں اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔کیونکہ مخالف اس کا ثبوت مانگتا ہے تو وہ دیا نہیں جا سکتا اور اس طرح زک اٹھانی پڑتی ہے۔پس مخالفین کے سامنے ایسے دلائل پیش کرنے چاہئیں جو عقلی ہوں اور جن کی صحت ثابت کی جاسکے۔ہو انیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کوئی موقع تبلیغ کا جانے نہ دے۔انیسویں ہدایت اسے ایک دھت لگی ہو کہ جہاں جائے ، جس مجلس میں جائے ، جس مجمع میں جائے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لے۔جن لوگوں کو باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر ایک مجلس میں بات کرنے کا موقع نکال لیتے ہیں۔مجھے باتیں نکالنے کی مشق نہیں ہے اس لئے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گھنٹہ گھنٹہ بیٹھے رہنے پر بھی کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔