زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 90

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 90 جلد اول لئے ایثار کا ہوتا ہے؟ مگر اس کے بہت موقعے اور محل ملتے رہتے ہیں۔مثال کے طور پر ہی کی دیکھ لو کہ ریل پر سوار ہونے والوں کو قریباً ہر اسٹیشن پر وہ لوگ سوار ہونے سے روکتے ہیں جو پہلے بیٹھے ہوتے ہیں۔سوار ہونے والا ان کی منتیں کرتا ہے ، خوشامد میں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کھڑا ہی رہوں گا لیکن اسے روکا جاتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو دیکھا گیا ہے کہ پھر جو سوار ہونے کے لئے آتا ہے اسے سب سے آگے بڑھ کر وہی روکتا ہے اور کہتا ہے یہاں جگہ نہیں ہے ہمارا دم پہلے ہی گھٹ رہا ہے۔اسی طرح ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔ایسے موقع پر مبلغ ان کا افسر بن کے بیٹھ جائے اور نرمی و محبت سے کہے آنے دیجئے کوئی حرج نہیں۔بیچارہ رہ گیا تو نہ معلوم اس کا کتنا نقصان ہو۔اور اگر کہیں جگہ نہ ہو تو کہہ دے میں کھڑا ہو جاتا ہوں یہاں بیٹھ جائے گا۔جب وہ اس بات کے لئے تیار ہو جائے گا اور اس قدر ایثار کرے گا تو اس کا لوگوں پر اتنا اثر ہو گا کہ سب ایثار کے لئے تیار ہو جائیں گے اور تھوڑی تھوڑی جگہ نکال کر آنے والے کو بٹھا دیں گے۔اس طرح اسے اپنی جگہ بھی نہیں چھوڑنی پڑے گی اور بات بھی پوری ہو جائے گی۔اس قسم کی باتوں سے مبلغ لوگوں کو ممنونِ احسان بنا سکتے ہیں۔ایک مبلغ جن لوگوں کو گاڑی کے اندر لائے گا وہ تو اس کے شکر گزار ہوں گے ہی ، دوسرے بھی اس کے اخلاق سے متاثر ہوں گے اور اس کی عزت کرنے لگیں گے۔اور اس طرح انہیں تبلیغ کرنے کا موقع نکل آئے گا۔لیکن اگر اس موقع پر اسی قسم کی بداخلاقی دکھائی جائے جس طرح کی اور لوگ دکھاتے ہیں تو پھر کوئی بات سننے کے لئے تیاری نہ ہوگا اور نہ تمہیں خود جرآت ہو سکے گی کہ ایسے موقع پر کسی کو تبلیغ کر سکو۔ایک سفر میں ایک شخص گاڑی کے اس کمرہ میں آداخل ہوا جس میں ہمارے آدمی بیٹھے تھے۔اس کے پاس بہت سا اسباب تھا۔جب وہ اسباب رکھنے لگا تو بعض نے اسے کہا کہ یہ سیکنڈ کلاس ہے اس سے اتر جائیے اور کوئی اور جگہ تلاش کیجئے۔لیکن وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔اور جب اسباب رکھ چکا تو سکینڈ کلاس کا ٹکٹ نکال کر ان کو دکھلا دیا۔اس پر وہ سخت نادم ہو کر بیٹھ گئے۔مجھے سخت افسوس تھا کہ ان لوگوں نے اس قسم کی بداخلاقی کیوں دکھائی۔جب