زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 80
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 80 جلد اول تو ادا کئے ہی جاتے ہیں۔کیونکہ اگر مسجد میں نہ آئے تو وہ سجھتا ہے کہ لوگ کہیں گے اچھا مبلغ ہے۔لیکن قرب الہی حاصل کرنے کے لئے اور روحانیت میں ترقی کرنے کے لئے نوافل پڑھنے ضروری ہیں اور دیگر از کار کی بھی بہت ضرورت ہے۔نویں چیز مبلغ کے لئے دعا ہے۔دعا خدا کے فضل کی جاذب ہے۔جو نویں ہدایت شخص عبادت تو کرتا ہے مگر دعا کی طرف توجہ نہیں کرتا اس میں بھی کبر ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کے انعام کی ضرورت نہیں سمجھتا۔حالانکہ موسی جیسا نبی بھی خدا تعالیٰ سے کہتا ہے رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ 5 کہ جو کچھ تیری طرف سے مجھ پر بھلائی نازل ہو میں اس کا محتاج ہوں۔پس جب حضرت موسی نبی ہو کر خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں تو معمولی مؤمن کیوں محتاج نہ ہوگا۔ہر ایک مبلغ کو دعا سے ضرور کام لینا چاہئے اور اس کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑ نا چاہئے۔دسویں چیز مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں انتظامی قابلیت ہو۔دسویں ہدایت اگر اس میں یہ قابلیت نہ ہوگی تو اس کا دائرہ عمل بہت محدود ہوگا اور اس کی کوششوں کا دائرہ اس کی زندگی پر ہی ختم ہو جائے گا۔اس لئے اسے اس بات کی بھی فکر ہونی چاہئے کہ جس کام کو اس نے شروع کیا ہے وہ اس کے ساتھ ہی ختم نہ ہو جائے بلکہ اس کے بعد بھی جاری رہے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قائم مقام بنائے۔دیکھو رسول کریم ﷺ مبلغ تھے مگر آپ مبلغ گر بھی تھے۔ہمارے مبلغوں کی اس طرف قطعاً توجہ نہیں ہے۔وہ یہ کوشش نہیں کرتے کہ جہاں جائیں وہ اپنے قائم مقام بنا ئیں اور کام کرنے والے پیدا کریں تا کہ انتظام اور ترتیب کے ساتھ کام جاری رہے۔یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مبلغ جن لوگوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ لائق دیکھیں اور جو شوق رکھیں ان کو مختلف مسائل کے دلائل سکھائیں اور ہر بار ان میں اضافہ کرتے رہیں اور دیکھتے رہیں کہ انہوں نے پہلے دلائل کو یاد کر لیا ہے یا نہیں۔اور پھر انہیں یہ بھی کہیں کہ ہمارے بعد تم تبلیغ کرنا اور اس کے متعلق ہمیں اطلاع دیتے رہنا۔میں نے تالیف واشاعت کے صل التمر