زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 78

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 78 جلد اول حالت اور ہمارے کام کی حالت کی وجہ سے جائز نہیں ہے کہ اس قسم کے اخراجات فنڈ پر ڈالے جائیں۔میں نے مولوی صاحب کے زمانہ میں دوستوں کے ساتھ دو دفعہ سفر کیا ہے۔مگر میرے نزدیک دوستوں کی جو زائد چیزیں تھی ان کا خرچ اپنے خرچ سے دیا اور خود اپنا خرچ تو میں لیا ہی نہ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ کئی آدمیوں کے بنارس تک کے خرچ پر صرف ستر روپے خرچ آئے تھے۔پس جہاں تک ہو سکے مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ بہت کم خرچ کرے۔کیونکہ یہ نمونہ ہوتا ہے دوسروں کے لئے۔اگر یہی اسراف کرے گا تو لوگ معترض ہوں گے۔اگر ایک تنخواہ دار اپنی تنخواہ میں سے خرچ کرتا ہے تو اس کا مال ہے وہ کر سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کا خرچ ہو جس طرح کا مبلغوں کا ہوتا ہے اور ایک پیسہ بھی اسراف میں لگائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللے تللے خرچ کرتے ہیں۔اپنی جیب سے تھوڑا ہی نکلنا ہے کہ پرواہ کریں۔اور جب لوگوں کو اس طرح کے اعتراض کا موقع دیا جائے گا تو وہ ساتویں ہدایت چندہ میں سستی کریں گے۔ساتویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں خودستائی نہ ہو۔بہت لوگوں کی تباہی کی یہی وجہ ہوئی ہے۔خواجہ صاحب اپنے لیکچروں کی تعریف خود لکھتے اور دوسروں کی طرف سے شائع کروانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ مولوی صدر الدین صاحب خواجہ صاحب کے ایک لیکچر کی رپورٹ حضرت خلیفہ اول کو سنا تھے کہ مولوی صاحب نے اس کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا۔اس کی پشت پر لکھا ہوا تھا کہ جہاں جہاں میں نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میں نے یہ کہا یا میری نسبت یہ کہا گیا وہاں خواجہ صاحب لکھ کر شائع کر دیا جائے۔حضرت مولوی صاحب نے وہ خط پڑھ کر مجھے دے دیا اور میں نے اس کی پشت پر یہ ہدایت لکھی ہوئی دیکھی۔اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔پس مبلغ کو کبھی اس بات پر زور نہ دینا چاہئے کہ فلاں جگہ میں نے یہ بات کہی اور اس کی اس طرح تعریف کی گئی یا اس کا ایسا نتیجہ نکلا کہ مخالف دم بخود ہو گیا۔بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سنائیں ہم نے یہ بات کہی اور اس کا ایسا اثر ہوا کہ لوگ عش عش