زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 74

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 74 جلد اول خود کوئی ہتک کی بات نہ تھی۔بلکہ اگر وہ دلیری سے کام لیتے تو یہ ایک قابل قدر کارنامہ ہوتا۔ہمارے واعظ حکیم خلیل احمد صاحب کو جب مدراس میں تکلیف پہنچی اور ان پر سخت خطر ناک حملہ کیا گیا اور ان کے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اس خبر کو اخبار میں شائع کرایا جس پر ایک دوست نے سخت افسوس کا خط لکھا کہ اخبار والوں کو منع کیا جائے کہ ایسی خبر نہ شائع کیا کریں۔حالانکہ وہ خبر میں نے خود کہہ کر شائع کرائی تھی۔اور منجملہ اور حکمتوں کے ایک یہ غرض تھی کہ اس خبر کے شائع ہونے سے جماعت میں غیرت پیدا ہو اور ان میں سے اور لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کریں۔یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ میرا یہ منشاء نہیں کہ خود بخود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی جگہ کی تبلیغ اس لئے مت ترک کرو کہ وہاں کوئی خطرہ ہے۔اور نہ میرا یہ منشاء ہے کہ لوگ بے شک تکلیف دیں اس تکلیف کا مقابلہ نہ کرو۔بے شک قانوناً جہاں ضرورت محسوس ہو اس کا مقابلہ کرو۔مگر تکالیف اور خطرات تمہیں اپنے کام سے نہ روکیں اور تمہارا حلقہ کا ر محدود نہ کر دیں۔میں نے اخلاق کے مسئلہ کا مطالعہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ستر فیصدی گناہ جرات اور دلیری کے نہ ہونے کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر جرات ہو تو اس قدر گناہ نہ ہوں۔پس دلیری اپنے اندر پیدا کرو تا کہ ایک تو خود ان گناہوں سے بچو جو جرات نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے تمہاری کوششوں کے اعلیٰ نتائج پیدا ہوں۔ہاں اس کے ساتھ یہ بات بھی یادرکھو کہ اپنی طرف سے ہر قسم کے فساد یا جھگڑے کے دور کرنے کی کوشش کرو اور موعظہ حسنہ سے کام لو۔اس پر بھی اگر کوئی تمہیں دکھ دیتا ہے، مارتا ہے، گالیاں نکالتا ہے یا برا بھلا کہتا ہے تو اس کو برداشت کرو اور ایسے لوگوں کا ایک ذرہ بھر خوف بھی دل میں نہ لاؤ۔تیسری ہدایت تیسری بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی ہمدردی اور ان کے متعلق قلق ہو۔جس جگہ گئے وہاں ایسے افعال