زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 58

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 58 جلد اول یہ نہیں جانتے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔کیوں لوگوں میں ایسے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔کیوں وہ مذاہب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تیسری قسم تیسرا گروہ وہ ہے جس کو یہ تینوں باتیں حاصل ہیں۔اس کی نظر بھی وسیع ہے ، وہ لوگوں کے خیالات کے عرض سے بھی واقف ہے اور ان کے عمق علم رکھتا ہے یعنی ان خیالات کے پیدا ہونے کے جو اسباب ہیں ان سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ اس ظاہری تغیر کے پس پردہ کیا طاقتیں کام کر رہی ہیں۔تینوں قسم کے لوگوں کو مخاطب کرنے کی غرض اس وقت جو باتیں میں کہوں گا وہ ان تینوں گروہوں کو مد نظر رکھ کر ہوں گی اور گو بعض کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہوگا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک گروہ یعنی طلباء کو سنانے کی یہی غرض ہے کہ اس کے کان میں اس قسم کی باتیں پڑتی رہیں اور اس کے دل میں نقش ہوتی رہیں۔دوسرے دو طبقوں کے لوگ جو اپنی واقفیت اور تجربہ کی وجہ سے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں ان کو سنانے کی یہ غرض ہے کہ اگر انہیں معلوم نہ ہوں تو اب واقف ہو جائیں۔اور اگر معلوم ہوں تو ان پر اور غور و فکر کریں اور ان سے اچھی طرح فائدہ اٹھا ئیں۔اس تمہید کے بعد میں اس امر کے متعلق کچھ بیان مبلغ کے معنی اور اس کا کام کرنا چاہتا ہوں کہ مبلغ کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا کام ہے؟ مبلغ کے معنی ہیں پہنچا دینے والا۔مگر جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خواہ وہ کچھ پہنچا دے اس کو مبلغ کہا جائے گا۔بلکہ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسا شخص جو دوسروں کو اسلام کی تعلیم پہنچائے۔آجکل کے مبلغ تو ظلی مبلغ ہیں۔بعض لوگ نبوت ظلی پر ہی بحث کر رہے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارا سبھی کچھ مل ہی حل ہے۔ایمان بھی خالی ہے، تبلیغ بھی ظلی ہے۔کیونکہ پہلے اور اصلی مبلغ تو رسول کریم ہی ہی ہیں۔ان کی وساطت اور ذریعہ سے ہی دوسرے لوگ مبلغ بن سکتے ہیں۔اسی