زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 57

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 57 جلد اول ہے۔وہ یہ سمجھتے ہی نہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جو ایک وعظ اور نادرست بات بھی ایسے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ عوام کو درست ہی معلوم ہو یا ایک ایک بات میں اعتراض کے کئی ایسے پہلو نکالے جا سکتے ہیں جن کی طرف پہلے ان کا خیال بھی نہیں گیا ہوتا۔دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نظر تو محدود نہیں ہے، وہ دنیا میں پھرے ہیں دوسری قسم لوگوں سے ملے ہیں، مخالفین کے اعتراضات سنے کا انہیں موقع ملا ہے مگر ان کی نظر کی وسعت عرض کے لحاظ سے ہے عمق کے لحاظ سے نہیں۔میں نے عورتوں کو کئی دفعہ بڑی حیرت سے یہ کہتے سنا ہے کہ لوگ خدا کا انکار کس طرح کر سکتے ہیں۔بھلا خدا کی ہستی کا بھی انکار کیا جا سکتا ہے؟ مگر ان کو دنیا کاعلم نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتیں کہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو حیرت سے پوچھتے ہیں کہ دنیا خدا کو مانتی کیوں ہے؟ بھلا اس کے ماننے کے لئے بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے۔ان عورتوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہو کر یہ سمجھا کہ خدا کا انکار کوئی کر ہی نہیں سکتا۔لیکن اگر ان کی نظر وسیع ہوتی اور وہ دنیا کے لوگوں کی حالت سے آگاہ ہوتیں تو پھر وہ حیرت کے ساتھ یہ نہ کہتیں۔تو ہمارے مبلغوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو عرض کے لحاظ سے تو وسعت حاصل ہے مگر ان کے اندر حق نہیں ہے۔وہ یہ جانتے ہیں کہ لوگوں میں مذہبی مسائل میں کتنا اختلاف ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ کیوں ہے؟ کیوں پیدا ہوا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کنویں میں جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس میں پانی ہے اور اتنی جگہ میں ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ کتنی گہری زمین سے جا کر پانی نکلا ہے اور کس طرح نکلا ہے۔تو یہ لوگ دنیا کے اعتراضات سے واقف ہیں، دنیا کے خیالات سننے کا انہیں موقع ملا ہے، وہ جانتے ہیں کہ دنیا میں دہریت پیدا ہورہی ہے، انہیں علم ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو مذاہب کے پیروؤں کو حقیر جانتے ہیں اور مذاہب پر ہنسی اڑاتے ہیں۔مگر وہ