زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 433
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 433 جلد اول پس ہمیشہ احسن طریق پر گفتگو کرنی چاہئے اس میں یہ تینوں باتیں شامل ہیں جو میں نے پہلے بیان کی ہیں۔یعنی سیاسیات میں حصہ نہ لیا جائے۔رسم و رواج اور خیالات و عقائد کو مد نظر رکھ کر گفتگو کی جائے۔ایسے طریق سے گفتگو کی جائے کہ اس سے محبت ترقی کرے نہ کہ کم ہو۔چوتھی بات یہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ جب تک اپنے دل میں کسی بات کے متعلق پورا پورا یقین نہ ہوا انسان دوسرے کے دل میں یقین نہیں پیدا کر سکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ دعا سے جو کچھ کر سکتا ہے وہ کسی اور طرح نہیں ہو سکتا۔لیکن جب تک اپنے عمل سے یہ بات نہ دکھا ئیں اُس وقت تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔جب کوئی مشکل پیش آئے اُس وقت اگر ہم دعاؤں پر خاص زور نہ دیں تو دوسرے لوگ کس طرح مان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں پر ہمیں یقین ہے۔اس قسم کی باتوں میں بہت سی ترقی عادت کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔جو لوگ دعاؤں کی عادت ڈال لیتے ہیں میں دیکھتا ہوں ان میں سے بعض میں کئی بڑے بڑے نقائص اور کمزوریاں بھی ہوتی ہیں مگر ان کی دعائیں سنی جاتی ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں میں اس طرح پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ لے ہی لیتے ہیں۔جس طرح اگر کسی انسان سے کوئی شخص کچھ مانگے اور وہ انکار کر دے تو پیچھے پڑ جانے پر وہ کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے اسی طرح جو دعاؤں میں خدا تعالیٰ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں انہیں خدا تعالیٰ بھی کچھ نہ کچھ دے دیتا ہے۔چراغ دین جمونی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھانَزَلَ بِه جیز 2 کہ یہ کتے کی طرح آبیٹھا تو اسے ٹکڑا ڈال دیا گیا۔اس میں بتایا کہ یہ الہام کے قابل نہ تھا مگر ہمارے دروازہ پر آ بیٹھا اس لئے اس پر الہام تو نازل کر دیا مگر وہ ایسا ہی تھا جیسے کتے کو ٹکڑا ڈال دیا جائے۔چراغ دین تو مرتد ہو گیا کیونکہ جبیز کو اس نے اعلیٰ چیز سمجھ لیا اور اس پر اترانے لگا۔لیکن اگر پیچھے پڑنے سے پہلے جبیز ہی نازل ہو اور انسان اس پر متکبر نہ ہو بلکہ دعاؤں میں لگا رہے تو اس کے لئے اعلیٰ چیز بھی نازل ہوگی۔کئی لوگ ایسے