زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 409
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 409 جلد اول قابلیت ایسی قابل قدر نہیں ہوتی جتنی وہ ادنی قابلیت جو دوسری قابلیتوں کے مطابق آجاتی ہے۔بسا اوقات اعلیٰ قابلیت خود ایسی قابلیت رکھنے والے کے لئے تباہی کا موجب ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی مصائب کا باعث بن جاتی ہے۔ایک اکیلا انسان جو دوسروں سے الگ تھلگ رہتا ہو اپنے لئے جو چاہے رستہ تیار کر سکتا ہے اور اس پر صبر اور استقلال سے گامزن ہو سکتا ہے۔لیکن جس نے دوسروں سے مل کر کام کرنا ہو وہ اگر یہ سمجھے کہ جو خیال اس کا ہو اسی کے مطابق کام کرے اور جس طرح کوئی بات وہ چاہے اسی طرح ہو یہ ناممکن ہے۔یہ طریق اختیار کرنے والا لا ز ما یا تو خود نہ رہے گا یا وہ نہ رہیں گے جن کے ساتھ مل کر اسے کام کرنا چاہئے تھا۔اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں وہ گھس گھسا کر گولائی اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ریگستانوں میں ریت کے ذروں کو دیکھو اور پہاڑوں پر پتھروں کو دیکھو وہ گھتے اور گولائی پکڑتے جاتے ہیں کیونکہ دنیا کی ہر چیز میں رگڑ جاری ہے اس کے نتیجہ میں دو باتوں میں سے ایک ضرور اختیار کرنی پڑتی ہے۔یا تو ٹوٹ | جانا یا پھر گھس جانا۔اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔اور یہی چیز ہے جو دنیا میں انسان کی کامیابی کا گر ہے اور یہی چیز ہے جو ایک دوسرے سے اتحاد اور تعاون پیدا کر رہی ہے۔مگر میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے ان میں خاص قابلیتیں ہوتی ہیں لیکن ان میں یہ مادہ نہیں ہوتا کہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کریں اور تعاون اور اتحاد سے کام لیں۔اس لئے وہ خود بھی ناکام رہتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا موجب بنتے ہیں۔جب تعاون کا سوال ہو تو دوسروں کو اپنے خیالات کے ماتحت لانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ایسا شخص افسر ہو تو بھی کام خراب ہوتا ہے اور اگر ما تحت ہو تو بھی۔پس مبلغین کے لئے ضروری ہے کہ جہاں ان کے اندر ان کی شخصیت موجود نہ ہو وہاں انسانیت ضرور ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے ایک انسانیت ہے جو باقی انسانوں سے مل کر کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تم کو ایک انسان سے پیدا کر کے آگے بڑھا دیا یعنی فرماتا ہے یا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ نَّفْسٍ