زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 404
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 404 جلد اول رنج ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کیوں خدا سے دور اور اس کے فضلوں سے محروم ہیں۔یہی غم انبیاء کو ہوتا ہے کہ لوگ ہدایت کیوں نہیں پاتے۔میں مبلغوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے مدنظر ہمیشہ روحانیت ہونی چاہئے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی کی نظروں سے یہ پوشیدہ ہو جاتی ہے اور وہ ظاہری تعریفوں پر نظر رکھتے ہیں۔انہیں یہ خواہش نہیں ہوتی کہ خدا سے تعلق پیدا کریں، اس کے فضل کی چادر میں اپنے آپ کو لپیٹ لیں اس لئے وہ خدا کے فیوض سے محروم ہو جاتے ہیں۔کئی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہمارے دل میں روحانیت حاصل کرنے کے لئے درد پیدا ہوتا ہے مگر ہمارے لئے کھڑ کی نہیں کھلتی۔لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی میں سمجھتا ہوں ان کے کے سوز اور جلن میں کمی ہوتی ہے۔اگر وہ سچے طور پر سوز پیدا کریں، خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی ان کے دل میں ایسی تڑپ پیدا ہو جائے جیسی کسی محبوب ترین دنیا وی چیز کی ہوتی ہے تو ابھی 24 گھنٹے نہ گزرنے پائیں کہ خدا کا فضل کسی نہ کسی رنگ میں ان پر نازل ہو۔حضرت خلیفقہ اصبح الاول فرمایا کرتے تھے رات کا فاقہ اچھا نہیں ہوتا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے خدا تعالیٰ نے ظاہر اور باطن میں ایک تعلق اور مطابقت رکھی ہے اس لئے میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ بھی اپنے بندہ کو رات کا فاقہ نہیں دیتا۔جس طرح ماں پسند نہیں کرتی کہ اس کا بچہ رات کو بھو کا سوئے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کا بندہ روحانی طور پر بھوکا سوئے۔جب تک اس کے سوز پر محبت کی پٹی لگا کر اسے آرام کی نہ پہنچائے اسے سونے نہیں دیتا۔پس قربانی کے ساتھ اس چیز کو بھی مدنظر رکھو۔اسی سے کام میں برکت اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔اسی سے خدا تعالیٰ کے فیوض نازل ہوتے ہیں اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ساتھ ہے۔اور جس کے ساتھ اللہ ہوا سے بندوں کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں ہر ایک سے تو یہ امید کرنا مشکل ہے کہ وہ ہر بات قبول کر لے گا مگر