زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 35

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 35 جلد اول حضرت خلیفہ امسیح الاول فرمایا کرتے تھے ہر ایک پیشہ والا اپنے کام کے متعلق کوئی نہ کوئی بات یقینی طور پر کہہ سکتا ہے مگر طب ایک ایسا پیشہ ہے جس کے کرنے والا کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن میرے نزدیک طبیب بھی کسی نہ کسی حد تک کہہ سکتا ہے۔البتہ مبلغ کچھ نہیں کہہ سکتا۔کئی علاج ایسے ہوتے ہیں جنہیں طبیب کو یقین ہوتا ہے کہ یہ نتیجہ نکلے گا اور ایسا ہی ہوتا۔لیکن کوئی مبلغ ایک شریف سے شریف انسان کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ضرور اسے ہے۔حق منوالوں گا۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کو نیک ، غیر متعصب ، نفسانی جوش خالی اور سچی تلاش کرنے والا سمجھا جاتا ہے لیکن وہ ہاتھ سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح سانپ کینچلی سے اور حق کے پیش کرنے پر اس طرح بھاگ جاتا ہے جس طرح کسی زہریلی چیز سے۔پھر ایک شخص کے متعلق سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ کبھی حق قبول نہیں کرے گا اور اس کے حالات بھی یہی رائے قائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن وہ حق پالیتا ہے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک وقت حق کی بڑی مخالفت کرتے اور لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر وہی دوسرے وقت میں صداقت قبول کر لیتے ہیں۔ہم میں سے جو لوگ الگ ہوئے ہیں ان میں سے بعض ایسے لوگوں کو چھوڑ کر جن کے حالات اور واقعات سے پتہ لگتا تھا کہ انہیں ٹھوکر لگے گی باقیوں کو نیک اور متقی ہی سمجھا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ ان میں نفس ہے ہی نہیں۔لیکن بعد میں معلوم ہو گیا کہ ان کا نفس بڑا سرکش تھا۔اس کے مقابلہ میں بعض لوگ ایسے ہمارے سلسلہ میں داخل ہوئے جنہوں نے بڑی بڑی دشمنیاں کی تھیں اور کی احمدیوں کو بہت تکلیف پہنچائی تھی۔پچھلے ہی جلسہ پر کسی نے مجھے سنایا کہ ایک طرف سے ایک جماعت کے لوگ آئے اور دوسری طرف سے دوسری کے۔اور وہ ایک دوسرے کے گلے مل کر چیچنیں مار کر رونے لگ گئے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک جماعت کے لوگ پہلے احمدی ہو گئے تھے اور دوسروں نے ان کو احمدی ہونے کی وجہ سے اس قدر تنگ کیا تھا کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا آباد ہوئے تھے۔لیکن بعد میں دوسرے بھی احمدی ہو گئے اب جبکہ انہوں نے ایک دوسرے کو قادیان میں دیکھا تو تنگ کرنے والوں کو