زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 403
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 403 جلد اول اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھتا ہے۔پس خدمت اسلام کے ساتھ ساتھ یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل کرنا ہے اگر وہ حاصل ہو رہی ہوں تو سمجھو کہ قبولیت حاصل ہوگئی۔اور اگر وہ حاصل نہیں ہوئیں تو پھر بندے کیا دے سکتے ہیں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے بڑھ کر دین کی خدمت کی مگر غور کر و مخاطبین میں سے کتنوں نے آپ کی باتوں کو قبول کیا۔لاکھوں میں سے ایک نے بھی قبول نہیں کیا۔مگر کوئی ہے جو یہ کہہ سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دینی خدمات خدا تعالیٰ نے رد کر دیں۔خدا نے آپ کی خدمات کو قبول کیا۔چنانچہ فرمایا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔5 لوگ قبول کریں یا نہ کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس سے کیا کیونکہ جس نے آپ کو بھیجا تھا اس نے قبول کر لیا۔پس جو شخص خدا کے لئے دین کی خدمت کرتا ہے اس کی بنیا د روحانیت پر ہوتی ہے اور اس کی روحانیت ترقی کرتی جاتی ہے۔لیکن جو لوگوں پر نظر رکھتا ہے اسے روحانیت حاصل نہیں ہوتی۔دنیا ہی دنیا اس کے لئے رہ جاتی ہے۔مگر جنہیں روحانیت حاصل ہوتی ہے ان کے نزدیک دنیا کی کامیابی اور عزت تماشہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔پس یاد رکھو جب تک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ساتھ نہ ہو کوئی خوشی خوشی نہیں بن سکتی اس لئے خدا پر ہی نظر ہونی چاہئے۔غرض زندگی کو قربانی کی یاد سے تازہ رکھو مگر یہ بھی یاد رکھو کہ حقیقی قربانی اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہو۔اور یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ سے تمہیں کتنا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ خدا کو چھوڑ دو۔مگر میں کس طرح چھوڑ دوں۔جب ساری دنیا سوتی ہے اور عزیز سے عزیز بھی کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ ہی تسلی دیتا ہے اور مدد کرتا ہے۔تو دنیا اگر ساری کی ساری بھی مخالف ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہو اور وہ اپنی گود میں اٹھاتا ہو تو بتا ؤ ایسے انسان کو دنیا کی کونسی خواہش باقی رہ جاتی ہے۔ہاں یہ