زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 397

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 397 جلد اول تیسرا فائدہ ہم اس سے یہ اٹھاتے ہیں کہ ہم اس رو میں بہہ جانے سے دوسرے کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔اگر ہر چیز ہمارے اندر سے ہی پیدا ہوتی تو دوسروں کی طرف ہم متوجہ نہ ہوتے۔یہ جو خدا تعالیٰ نے رکھا ہے کہ ہم دوسرے کی رو میں بہہ جائیں تو ہم دوسرے کی رو میں بہہ کر اپنے لئے اچھے حالات پیدا کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے لوگ جو دین سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں لیکن جب ایک ایسی مجلس میں جاتے ہیں جہاں دین کا تذکرہ ہو رہا ہوتا ہے تو دین کی محبت سے ان کے دل بھر جاتے ہیں اور وہ یوں محسوس کرتے ہیں کہ دین کی خدمت کے لئے ساری عمر آمادہ رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں ہمارے مبلغوں کا آنا اور جاتا اس قسم کی کیفیات پیدا کرنے میں بہت ممد اور معاون ہوتا ہے۔ان کا وہ کام جو عملی میدان میں کر کے آتے ہیں وہ تو مفید ہوتا ہی ہے لیکن جب وہ جاتے ہیں تو بھی اور جب آتے ہیں تو بھی ایک رو پیدا کر دیتے ہیں اور یہ اپنی ذات میں خود سبق ہے۔جب کوئی مبلغ کسی دوسرے ملک میں تبلیغ کے لئے جاتا ہے تو بیسیوں طالب علم جن کی دین سے بے رغبتی کے متعلق ان کے سر پرستوں کو شکایتیں ہوتی ہیں ان کی آنکھیں ڈبڈبا آتی ہیں۔ان کے دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ان کے ہونٹ کا پنپنے لگتے ہیں۔ان کے چہرے ٹمٹمانے لگ جاتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی میدان میں جانے کے لئے بے تاب ہو رہے ہیں جس میں مبلغ جا رہا ہے۔بعد میں چاہے ان کی حالت بدل جائے مگر ان کے قلوب پر اپنا گہرا اثر چھوڑ جاتی ہے۔اور کسی نقش کا مٹانا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے کوئی اور نہیں مٹا سکتا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے كَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا 2 پس کسی نقش کو خدا ہی مٹا سکتا ہے ورنہ انسان جتنا مٹائے گا نقش اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا۔اور اس کی مثال ایک دلدل میں پھنسے ہوئے انسان کی سی ہوگی جو باہر نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتا ہے اتنا ہی دھنتا جاتا ہے۔کیونکہ باہر نکلنے کے لئے ٹیک کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے جب وہ ایک پاؤں کی ٹیک لے کر باہر نکلنا چاہے گا اور اس پر زیادہ زور ڈالے گا تو وہ پاؤں زیادہ ھنس جائے گا۔پس جو یہ