زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 34

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 34 === حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور مکرم مولوی عبید اللہ سندھی صاحب کی ولایت روانگی 5 مارچ 1917ء کو بعد از نماز عصر طلباء مدرسہ احمدیہ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور مکرم مولوی عبید اللہ سندھی صاحب کو ان کے عازم سفر ولایت ہونے کے موقع پر دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر آپ نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے۔در مفتی صاحب نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی طرف سے سنایا ہے کہ ایسے موقع میں تقریر نہیں کی جاتی لیکن میرے خیال میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی دعوت دینے کا یہ ایک ایسا موقع ہے جس کا تقریر سے ضرور جوڑ ہے کیونکہ وہ مبلغین کو دعوت دے رہے ہیں اور خود مبلغ بننے کے امیدوار ہیں اور مبلغ کا کام ہے کہ اسے جو موقع بھی ملے حق سناوے۔پھر ہمیں اہل یورپ کی تقلید کرنے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم یا ل ا ل کو طریق تھا کہ جب آپ کسی دعوت میں جاتے تو کھانے کے بعد دعا مانگتے ! یہ بھی ایک عبادت ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ ہر ایک کام میں دین کا حصہ بھی رکھتے تھے۔ٹی پارٹی اگر صرف چائے پینے کے لئے ہوتی ہے تو اس سے گو پیٹ بھر جائے گا لیکن روح کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔لیکن مومن کا تو یہ فرض ہے کہ اس کے ہر ایک کام میں دین کا حصہ بھی ہو اس لئے اس موقع پر کوئی تقریر کرنا بے محل نہیں بلکہ ضروری ہے۔ضا الله۔مفتی صاحب جس غرض کے لئے ولایت جا رہے ہیں وہ ایک ایسی مبلغ کی مشکلات غرض ہے جس کا تعلق انسان سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ۔سے ہے۔جلد اول